.

شام: یرغمال بنائے گئے چار فرانسیسی صحافی رہا

چاروں صحافیوں کو اسلامی عسکریت پسندوں نے یرغمال بنایا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تقریبا ایک سال تک شام میں یرغمال رہنے والے چار فرانسیسی صحافیوں کو رہائی مل گئی ہے۔ فرانسیسی صدر فرانسس اولیندے نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ'' چاروں رہائی پانے والے صحافی خیریت سے ہیں اور ان کی صحت اچھی ہے۔''

ان چاروں صحافیوں کو ایک ترک سپاہی نے شام کے ساتھ سرحد پر اس حالت میں دیکھا کہ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور ان کے ہاتھوں کا باندھ رکھا گیا تھا۔

فرانس کے صدر نے کہا '' انہیں یہ جان کو سکون محسوس ہوا ہے کہ آج صبح چار فرانسیسی رہا ہو گئے ہیں۔'' ان کا مزید کہنا تھا '' اگرچہ ان صحافیوں کو شام میں بہت بڑے چیلنج پر مبنی صورت حال کا سامنا رہا لیکن ان کی صحت اچھی ہے اور وہ اگلے کچھ گھنٹوں میں واپس وطن پہنچ جائیں گے۔''

واضح رہے ایڈورڈ الیاس، ڈائڈیر فرانسس، نکولیس ہینین اور پیرے ٹورس نامی صحافیوں کو شام میں جون 2013 میں اسلامی عسکریت پسندوں کی تنظیم داعش نے یرغمال بنایا تھا، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس گروپ سے تقریبا ایک سال بعد رہائی کیسے ممکن ہوئی ہے اور ان صحافیوں کو ترکی اور شام کےسرحدی علاقے میں کس نے پہنچایا ہے۔

ان میں سے یورپ ون نامی ریڈیو کے نمائندے اور الیاس نامی فوٹو گرافر کو ماہ جون کے آغاز کے دوران حلب جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا۔ جبکہ لی پوائنٹ نامی میگزین کیلیے کام کرنے والے ہینن اور جرمن ٹی وی کیلیے کام کرنے والے ٹورس کو کچھ دن بعد اغوا کیا گیا تھا۔

صحافیوں کے حقوق اور تحفظ کیلیے عالمی سطح پر سرگرم تنظیم ''کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس'' شام کو صحافیوں کیلیے دنیا خطرناک ترین جگہ قرار دے چکی ہے۔ دو فرانسیسی صحافی شمالی افریقہ کے علاقے میں ابھی تک لاپتہ ہیں۔