.

ڈوبنے والی جنوبی کوریائی کشتی کا کپتان گرفتار

حادثے کے وقت 'فیری' کو جونئیر اہلکار چلا رہا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی کوریا میں چند دن قبل غرقاب ہونے والی مسافر بردار کشتی کے حادثے میں زندہ بچ جانے والے وائس پرنسپل نے اپنے سیکڑوں طلبہ کی ہلاکت کے خدشے کے بعد خودکشی کر لی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بدقسمت بحری جہاز کے کپتان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جس وقت یہ بحری جہاز ڈوبا اس وقت اس کا کنٹرول ایک جونیئر اہلکار کے ہاتھ میں تھا۔

یاد رہے کہ سیول نامی یہ ’فیری‘ شمال مغربی علاقے انچیون سے جیجو کے جنوبی سیاحتی جزیرے کی طرف جا رہی تھی کہ دو گھنٹے کے قلیل وقت میں الٹ کر سمندر کی تہہ میں غرق ہو گئی۔ اس حادثے میں اب تک 28 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 268 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں بڑی تعداد میں سکول کے بچے بھی شامل ہیں۔ اس حادثے کے بعد 179 افراد کو بچا لیا گیا تھا۔

جمعہ کو واقعے کی جاری تحقیقات کے دوران پتہ چلا تھا کہ جس وقت یہ بحری جہاز ڈوبا اس وقت اس کا کنٹرول ایک جونیئر اہلکار کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے بعد سرکاری وکلاء نے فیری کے کپتان اور عملے دیگر دو ارکان کی گرفتاری کے لیے عدالت سے وارنٹ جاری کرنے کو کہا تھا اور اب جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی یون ہاپ کا کہنا ہے کہ کشتی کے کپتان لی جون سيوك اب زیرِ حراست ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق 68 سالہ کپتان پر فرائض سے غفلت برتنے اور سمندری قوانین کی خلاف ورزی سمیت پانچ الزامات لگائے گئے ہیں۔ لی جو سیوک سے پولیس نے پہلے بھی پوچھ گچھ کی تھی اور انھوں نے جمعرات کو ٹیلی ویژن پر متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے معافی بھی مانگی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’میں بہت دکھی اور بہت شرمندہ ہوں۔ مجھے نہیں پتہ مجھے کیا کہنا ہے۔‘

ابھی تک جہاز ڈوبنے کا اصل سبب معلوم نہیں ہو سکا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یا تو اس جہاز کا نچلا ڈھانچہ کسی چٹان سے ٹکرایا تھا یا پھر تیزی سے موڑ کاٹنے کی وجہ سے اس پر لادا سامان کھسک کر ایک طرف چلا گیا اور جہاز کا توازن بگڑ گیا اور یہ ایک طرف کو جھک گیا۔

اس جہاز کے لاپتہ مسافروں کو ڈھونڈنے کے لیے بڑی پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن خراب موسم، دھند اور شدید لہروں کی وجہ سے غوطہ خوروں کو دشواریاں پیش آ رہی تھیں۔