.

'' ایم ای آر ایس'' وائرس رنگ میں بھنگ ڈالنے لگا

سعودی دولہے کی والدہ کی مہمانوں کے گلے ملنے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ''ایم ای آر ایس'' نامی بیماری کے وائرس نے خوف کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ شادی بیاہ کی خوشیوں، محبتوں اور ہر ملاقات کے دیگر مواقع پر بھی گلے ملنے، بوسہ لینے حتی کہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے میں بھی احتیاط کی جانے لگی ہے۔

اس خوف کا تازہ اظہار اس وقت سامنے آیا جب سعودی شہر تبوک میں ایک شادی کی تقریب کے موقع مہمانوں سے یہ کہہ دیا گیا کہ وہ محبت اور شفقت کے بھر پور اظہار کے لیے گلے ملنے حتی کہ مصافحہ کرنے سے بھی احتیاط کریں۔

احتیاط کی وجہ ''ایم ای آر ایس'' کا خوف ہے، جو مشرق وسطی میں پھیلا ہوا ہے۔ تبوک میں ایک شادی کے روز دولہے کی والدہ نے مہمانوں سے کہا '' انہیں خوشی کے اس موقع پر گلے ملنے، ہاتھ ملانے اور بوسے لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ''

دولہے کی والدہ نے مہمانوں کیلیے اپنے اس ''قانون '' کا اعلان فون کالز کے ذریعے شادی میں پہنچنے سے پہلے ہی کر دیا تھا۔ یہ محض ایک درخواست نہ تھی بلکہ دولہے کی ماں کی طرف سے مہمانوں کو شرکت کیلیے ایک شرط کے طور پر پہنچائی گئی اطلاع تھی۔

عمومی طور پر سعودی عرب میں شادی بیاہ کی تقریبات میں خواتین اور مرد الگ الگ جگہوں پر تشریف رکھتے ہیں، تاہم دولہے کی والدہ کی طرف سے یہ شرط خواتین کے لیے مخصوص ہال کیلیے عاید کی گئی لیکن یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہی پابندی مرد مہمانوں کیلیے بھی تھی یا نہیں۔

اس موقع پر ہال میں داخلی دروازے پر خواتین کے لیے ماسک چڑھانا بھی یقینی بنایا گیا تھا۔ سعودی عرب میں اس وبا کے باعث نقصان نے خوف کو بڑھا دیا ہے۔ پورے ملک میں ''ایم ای ر ایس '' کے انفیکشن سے متاثرہ 205 افراد میں سے 71 جاں بحق ہو چکے ہیں۔

سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس وبا سے متاثرہ افراد میں سے 35 فیصد موت کا شکار بن چکے ہیں۔ سعودی عرب میں اس وبا کا پہلا انکشاف 2012 میں سامنے آیا تھا۔ اب اس کے خوف نے شادی بیاہ کی تقریبات کو بھی گھیرے میں لے لیا ہے۔