.

ایرانی سفیر کا امریکا میں داخلہ روکنے کے لیے قانون منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے اقوام متحدہ کے لیے نامزد سفیر حمید ابو طالبی کے امریکا میں داخلے کو روکنے کے لیے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

صدر اوباما نے جمعہ کو اس قانون پر دستخط کرتے ہوئے کہا:''وہ قانون سازوں کی اس تشویش سے متفق ہیں کہ دہشت گرد امریکا میں داخلے کے لیے سفارتی خول استعمال کرسکتے ہیں''۔

اس غیر معمولی قانون کے تحت اقوام متحدہ کے لیے مقرر کیے گئے کسی بھی ملک کے ایسے سفیر یا ایلچی کے امریکا میں داخلے پر پابندی ہوگی جو ماضی میں جاسوسی یا دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث رہا ہو اور امریکا کی سلامتی کے لیے بدستور خطرے کا موجب ہو۔

لیکن اس قانون کا فی الوقت ہدف اقوام متحدہ کے لیے ایران کے نامزد سفیر حمید ابو طالبی ہیں۔ان پر 1979ء میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی طلبہ کے قبضے اور سفارتی عملے کو یرغمال بنانے کے واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

امریکا قبل ازیں حمید ابوطالبی کو ویزا دینے سے انکار کر چکا ہے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے گذشتہ جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ اور ایران کو حمید ابو طالبی کو ویزے جاری نہ کرنے کے فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے ابھی تک حمید ابو طالبی کی جگہ اقوام متحدہ کے لیے نئے سفیر کا تقرر نہیں کیا ہے۔ابو طالبی ایران کے ایک تجربے کار سفارت کار ہیں اور اس سے پہلے یورپی ممالک میں سفارتی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

بلومبرگ نیوز نے سب سے پہلے ان کے 1979ء میں امریکی سفارتی عملے کو یرغمال بنانے کے بحران میں کردار کی اطلاع دی تھی لیکن انھوں نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ تو صرف ایک مترجم کا کردار ادا کررہے تھے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے ابو طالبی کو جاننے والے لوگوں کے حوالے سے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ وہ امام خمینی کے پیروکار مسلم طلبہ کا حصہ تھے۔اس گروہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا تھا لیکن وہ ان طلبہ میں شامل نہیں تھے جو بحران کے دوران امریکی سفارت خانے کے اندر گھس گئے تھے۔