.

اسرائیل: یو این سفیر کو چرچ میں داخلے سے روک دیا

اٹلی، جرمنی اور ناروے کے سفیروں کو بھی اجازت نہ مل سکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے اقوام متحدہ کے مشرق وسطی کیلیے سفیر امن کو دوسرے سفارت کاروں سمیت یروشلم کے گرجا گھر میں عبادت کیلیے جانے سے روک دیا۔ سفارتکار اور مسیحی برادری کے لوگ ایسٹر سے ایک روز قبل گرجا گھر میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کرنا چاہتے تھے، لیکن اسرائیل نے گرجا گھر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ روکے جانے والوں میں اٹلی، جرمنی اور ناروے کے سفیر بھی شامل تھے۔

واضح رہے عیسائی یروشلم کے اس قدیمی گرجا گھر کو اپنے عقیدے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کی آخری رسومات کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف سفیروں کو عبادت کیلیے گرجا گھر جانے کی اجازت دینے سے انکار سے پہلے دو دن تک مسجد اقصی کے قریب تصادم ہوتا رہا ہے۔ سیاسی اعتبار سے گرما گرمی کے شکار اس شہر میں اگلے ماہ مسیحی برادری کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس دورے پر آنے والے ہیں۔

اسرائیل نے اس بارے میں اقوام متحدہ کی شکایت کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے یہ ایک چھوٹے واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ گرجا گھر جانے والے راستے پر پولیس نے رکاوٹیں ہجوم کو کنٹرول کرنے کیلیے کھڑی کی تھیں۔ واضح رہے روایتی طور پر ہزاروں عیسائی ہر سال ایسٹر سے ایک دن قبل اس گرجا گھر میں مقدس آگ کا ایک مذہبی روایت کے طور پر نظارہ کرنے آتے ہیں۔ عیسائی مذہب سے وابستہ لوگوں کا خیال ہے کہ معجزاتی آگ گنبد سے ہر سال ایسٹر سے ایک دن پہلے نمودار ہوتی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سفیر امن رابرٹ سیری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ'' اسرائیلی سکیورٹی آفیسر نے فلسطینی عیسائیوں کے ایک گروپ اور سفارت کاروں کو عبادت کیلیے گرجا گھر جانے سے روک دیا تھا، اس بارے میں سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔'' رابرٹ سیری کا کہنا ہے ''اٹلی، ناروے اور جرمنی کے سفیروں کے ساتھ وہ آدھا گھنٹہ انتظار کرتے رہے۔''

سفیر امن کا کہنا ہے کہ ''یہ واقعی ایک خطرہ بن گیا تھا کیونکہ وہاں بڑا ہجوم تھا، مجھے پولیس کی رکھی ہوئی دھات کی بنی رکاوٹ کی طرف دھکیل دیا گیا تھا اور ہجوم سخت دھکم پیل کر رہا تھا۔ ''

اس بارے میں ایک فلسطینی عینی شاہد کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیلی افسر کو رابرٹ سیری سے بات کرتے سنا جو مزید تیس ایسے افراد کے ساتھ تھے۔ یہ سب لوگ عبادت کیلیے آئے تھے، جب سیری نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ اقوام متحدہ کے سفیر ہیں تو اسرائیلی افسر نے کہا '' تو کیا کروں؟''

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سفیر کے موقف کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ محض واقعے کو سمجھنے میں غلطی کا معاملہ ہے۔ ترجمان کے مطابق اس موقع پر تشدد کا بھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔