.

کیمیائی حملے: فرانس کا اسد رجیم کی جانب اشارہ

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات ہیں،ٹھوس ثبوت نہیں:فرانسو اولاند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت ابھی تک کیمیائی ہتھیار استعمال کررہی ہے،ان کے ملک کے پاس اس سے متعلق معلومات تو موجود ہیں لیکن ابھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔

فرانسو اولاند نے اتوار کو یورپ 1 ریڈیو اسٹیشن کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ''ہمارے پاس شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی کچھ معلومات ہیں۔البتہ میرے پاس اس سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ہے''۔ان سے اسد حکومت کی جانب سے حال ہی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق رپورٹس پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے بھی اسی ریڈیو اسٹیشن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے اشارے ملے ہیں مگر ان کی ابھی تصدیق ہونا باقی ہے''۔

انھوں نے شام کے شمال مغربی علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کے حالیہ حملوں کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ دمشق میں چند ماہ قبل ہونے والے حملوں کے مقابلے میں کم تر اہمیت کے حامل ہیں لیکن پھر بھی مہلک ہیں۔

ایک فرانسیسی ذریعے کا کہنا ہے کہ شامی حزب اختلاف سمیت مختلف ذرائع کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں رپورٹس منظرعام پر آئی ہیں لیکن وسطی صوبے حماہ کے قصبے کفر زیتا میں حملے کے بعد مختلف بیانات سامنے آئے ہیں اور شامی حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے ایک دوسرے کو اس حملے کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

شامی حزب اختلاف نے حال ہی میں بشارالاسد کی حکومت پر دمشق کے نواحی علاقوں الحرستا ،جبر اور وسطی صوبے حماہ کے علاقے کفر زیتا میں کیمیائی ہتھیاروں کے متعدد حملوں کے الزامات عاید کیے ہیں جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک نشریے میں دعویٰ کیا تھا کہ القاعدہ سے وابستہ باغی جنگجو تنظیم النصرۃ محاذ نے اس قصبے پر تباہ کن حملے کے لیے کلورین گیس استعمال کی تھی۔

کفر زیتا سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے فیس بُک پر پوسٹ کی گئی تحریروں اور یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں اسد رجیم پر شہریوں پر کلورین گیس استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔اس ویڈیو میں مردوں اور بچوں کو ایک فیلڈ اسپتال میں قے کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور انھیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔

امریکا اور روس کی ثالثی میں گذشتہ سال شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے طے پائے معاہدے کے تحت اسد حکومت جون کے آخر تک اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے تمام ذخیرے کو تباہ کرنے کی پابند ہے۔گذشتہ ہفتے کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) نے کہا تھا کہ شام اب تک اپنے دوتہائی کیمیائی ہتھیاروں سے دستبردار ہوا ہے۔

او پی سی ڈبلیو کے سربراہ احمد ازمچو نے 14 اپریل کو شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی کھیپ حوالے کیے جانے کے بعد کہا تھا کہ مذکورہ ڈیڈلائن پر پورا اترنے کے لیے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کوحوالے کرنے کی رفتار کو تیز کرنا اور حجم کو بڑھانا ہوگا۔