.

شام میں ''فائیو سٹار'' جہاد نہیں ہو رہا: ابو عبداللہ

برطانوی جہادی نے سوشل میڈیا پر ویڈیو اپ لوڈ کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں موجود برطانوی جہادیوں نے شام کے جہاد کو جان جوکھوں کا کام قرار دیتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ وہ شام میں کسی'' فائیوسٹار'' قسم کے پرآسائش ماحول میں بشار رجیم کیخلاف لڑ رہے ہیں۔ اس امر کا اظہار ان جہادیوں کی صورت حال سے متعلق سوشل میڈیا پر ''اپ لوڈ '' کی گئی ایک ویڈیو فوٹیج میں کیا گیا ہے۔

شام کے بارے میں پہلے سے موجود رپورٹ کے مطابق چار سو کے قریب برطانوی جہادی بشار رجیم کے خلاف سرگرم ہیں۔ جن میں ایک اندازے کے مطابق 20 مارے جا چکے ہیں۔ جبکہ بقیہ سخت ناروا اور ناگوار صورت حال میں رہ رہے ہیں جس کا وہ اپنی عمومی زندگی میں تصور بھی نہ کرتے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ برطانوی جہادی داعش نامی تنظیم کے پلیٹ فارم سے وابستہ ہیں۔ یہ تنظیم عراق اور شام دونوں اسلامی ریاست کے طور پر دیکھنے کی خواہش مند ہے۔

یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں ایک جہادی جو خود ابو عبداللہ ایک ایسے مکان خستہ حال مکان میں ہے جو نہ جانے کب سے بند پڑا تھا۔ اسی مکان کا ایک کمرہ دکھایا گیا ہے جس میں اس کے بقول سات مجاہدین قیام کرتے ہیں، یہ ساتوں زمین پر بچھے گدوں پر سوتے ہیں، جبکہ ان کی اے کے 47 المعروف بندوقیں دیوار کے ساتھ پڑی ہوتی ہیں۔

ابو عبداللہ کے مطابق اس نے یہ ویڈیو اس لیے بنائی ہے تاکہ بعض برطانیوں کے اس دعوے کو غلط ثابت کر سکے کہ شام میں جہادی ''فائیو سٹار'' قسم کے ماحول میں رہ بس رہے ہیں اور ان کی زندگی پر آسائش انداز سے گذر رہی ہے۔

اس ابو عبداللہ نامی جہادی کا کہنا ہے کہ '' میں آپ کو اپنی رہائش سے متعلق حقائق دکھانا چاہتا ہوں، جس رہائش کو بعض لوگ پر آسائش قرار دیتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی پنج تارے ہوٹل کی طرح کی زندگی گذار رہے ہیں اور بڑے بڑے محلات میں مقیم ہیں، ہمارے کمروں کی الماریاں ہر وقت مٹھائیوں سے بھری رہتی ہیں ، واللہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہے، ہم اس طرح کی آسائشات والی زندگی سے بہت دور ہیں۔

اس نے مزید کہا ہے ہم کسی پنج تارے ہوٹل میں مقیم نہیں ہیں کہ گرم پانی کی سہولت ہر لمحہ موجود ہو بلکہ ہم ٹھنڈے پانی سے غسل اور وضو کرتے ہیں، بعد ازاں ابو عبداللہ نے کیمو فلاج کیلیے اونی ساختہ ایک ٹوپی سر پر رکھی۔ ارد گرد پڑے آئی فونز کے حوالے سے اس نے کہا انہیں اب چارج کرنا بھی مشکل ہے کہ بشار رجیم دن میں کئی گھنٹے بجلی بند رکھتی ہے۔

ابو عبداللہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ویڈیوز میں دیکھا جا چکا ہے جن میں وہ برطانوی مسلمان نوجوانوں کو جہاد کیلیے پکارتا ہے، تاہم جہاد کی طرف بلانے والے اس ابو عبداللہ نے اس راستے کی کٹھنائیاں پہلی بار بیان کی ہیں۔ کہ '' جہاد پھولوں کی نہیں کانٹوں کی سیج ہے۔ ''