.

شاہ عبداللہ سال کی عالمی ثقافتی شخصیت قرار

خادم الحرمین الشریفین کی عالمی ثقافتی کوششوں کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے الشیخ زید بک ایوارڈ کی جانب سے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو سنہ 2014ء کی عالمی ثقافتی شخصیت قرار دیا گیا ہے۔

اس بات کا اعلان یو اے ای کے صدر مقام ابو ظہبی میں الشیخ زید بک ایوارڈ کے سربراہ ڈکٹر علی بن تمیم نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔ اماراتی ولی عہد کے دفتر میں ہونے والی نیوز کانفرنس میں ایوارڈ بورڈ کے رُکن محمد خلف المزروعی اور متحدہ عرب امارات کے ثقافتی ورثے کے مشیر بھی موجود تھے۔

بعد ازاں "العربیہ" ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر بن تمیم نے کہا کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو سال دو ہزار چودہ کی ثقافتی شخصیت قرار دینا الشیخ زید بک ایوارڈ کے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری تھی، جسے ادا کیا گیا ہے۔ خادم الحرمین الشریفین کو عالمی ثقافتی شخصیت کا خطاب ملنا ادارے کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

ڈاکٹر تمیم کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے بہت سی شخصیات تھیں جنہیں ثقافتی شخصیت قرار دیا جا سکتا تھا مگر شاہ عبداللہ کی عالمی ثقافتی شعبے میں خدمات سے ایوارڈ کے مستحق قرار پائے ہیں۔ سعودی فرمانروا نے دنیا بھر میں مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور مکالمے کا کلچر متعارف کرایا، سعودی عرب، عرب دنیا اور عالمی سطح پر تعلیم کے فروغ میں انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ شاہ عبداللہ ٹینیکل یونیورسٹی کا قیام اور خادم الحرمین الشریفین کا عالمی ایوارڈ برائے ترجمہ جیسی خدمات کے بعد انہیں عالمی ثقافتی شخصیت قرار دینا ان کا حق تھا۔

الشیخ زید بک ایوارڈ کے سیکرٹری جنرل نے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک، عالم اسلام اور عالمی برادری میں نظریاتی، فکری، تعلیمی کلچر کو فروغ دینے کے ساتھ خادم الحرمین الشریفین نے رواداری اور بھائی چارے برداشت کی روایات کو عام کیا۔ یوں سعودی عرب سے لے کر پوری دنیا تک شاہ عبداللہ کی ثقافتی خدمات کا شہرہ عام ہے۔

اس موقع پر ابوظہبی سیاحت ثقافت بورڈ کے چیئرمین الشیخ سلطان بن طحنون آل النہیان نے شاہ عبداللہ کو سنہ 2014ء کی عالمی ثقافتی شخصیت قرار دینے کے اعلان کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین کو یہ لقب دینے سے خود الشیخ زید بک ایوارڈ کے لیے باعث فخر تمغہ ہے اور ہمیں اس بر بجا طور پر فخر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاصر دنیا میں برداشت، رواداری، تعلیم، بین المذاہب مکالمے اور عفو و درگذر کے کلچر کو جس طرح شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے عام کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ایک مینارہ نور ہے۔ ان کے مقابلے میں دنیا میں کوئی اور شخصیت اس مقام پر نہیں ہے۔