.

سعودی عرب: بم حملوں میں ملوث پانچ افراد کو سزائے موت

37 مجرموں کو القاعدہ کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر 3 سے 35 سال تک قید کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک عدالت نے 2003ء میں دارالحکومت الریاض میں غیر ملکیوں کے رہائشی کمپاؤنڈ میں خود کش بم حملے میں ملوث ہونے پر پانچ مجرموں کو سزائے موت سنائی ہے۔

عدالت نے اسی مقدمے میں ماخوذ سینتیس دیگر افراد کو قصور وار قراردے کر تین سے پینتیس سال تک قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔یہ تمام سزا یافتہ افراد القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے برپا کی گئی مہم کا حصہ تھے۔القاعدہ نے 2003ء سے 2006ء کے دوران سعودی مملکت میں متعدد بم حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

سعودی سکیورٹی فورسز نے مسلسل تین سال کی کارروائیوں کے بعد 2006ء میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے اس بڑے نیٹ ورک کو توڑنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ مخالف اس مہم کے دوران گیارہ ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت مختلف سعودی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔

سعودی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد القاعدہ کے بعض جنگجو بھاگ کر پڑوسی ملک یمن میں چلے گئے تھے جہاں انھوں نے 2009ء میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کرلی تھی۔یہ تنظیم تب سے وہاں بروئے کار ہے اور اس کو دنیا بھر میں القاعدہ کی سب سے خطرناک شاخ قراردیا جاتا ہے۔

سعودی عرب نے القاعدہ سے وابستہ سیکڑوں ملکی اور غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے 2011ء میں خصوصی عدالتیں قائم کی تھیں۔ان میں بہت سوں کو 2003ء کے بعد سعودی عرب میں بم دھماکوں اور غیرملکیوں پر حملوں میں ملوث ہونے کے جرم میں قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں اور بیسیوں کو پھانسی کا حکم دیا گیا ہے۔

تاہم شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے بعد ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور دوسری تنظیموں سے وابستہ جنگجوؤں نے سر اٹھایا ہے اور وہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف لڑنے کے لیے شام کا رُخ کررہے ہیں جس پر سعودی حکام کوسخت تشویش لاحق ہے۔