.

لیبیا: یرغمال تیونسی کی صدرمرزوقی سے رہائی دلانے کی اپیل

جنگجوؤں کے ہاتھوں یرغمال سفارتی اہلکار کی پانچ منٹ کی ویڈیو منظرعام پر آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں تیونس کے سفارت خانے سے اغوا کیے گئے ایک اہلکار کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ چلا رہا ہے اور صدر منصف مرزوقی سے رہائی دلانے کی اپیل کررہا ہے۔

لیبیا کے ایک غیر معروف جنگجو جہادی گروپ شباب التوحید نے محمد بن شیخ نامی اس تیونسی کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر اپ لوڈ کی گئی پانچ منٹ کی اس ویڈیو میں وہ صدر منصف مرزوقی کو دہائی دے رہا ہے اور ان سے اپیل کررہا ہے کہ وہ اس کو رہائی دلائیں۔

اس ویڈیو میں وہ کہہ رہا ہے:''جناب صدر آپ مجھے زندگی سے کیوں محروم کرنا چاہتے ہیں۔اگر مذاکرات نہیں ہوتے تو وہ مجھے رہا بھی نہیں کریں گے۔جناب صدر ان سے بات چیت کیجیے۔میں تیونس لوٹنا چاہتاہوں۔وہ مجھے کسی بھی وقت قتل کرسکتے ہیں''۔

اس ویڈیو کے آخر میں اغوا کار تیونسی حکومت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ''آپ نے ہمارے لوگوں کو قید میں ڈال رکھا ہے،ہم نے آپ کے لوگوں کو قید کر لیا ہے۔آپ ہمارے لوگوں کو مار رہے ہیں ۔ہم آپ کے لوگوں کو ماریں گے''۔

تیونسی حکام کے مطابق ان سے 2011ء میں دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے پر سزایافتہ لیبی افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔اس کارروائی میں دو پولیس افسر مارے گئے تھے۔

لیبیا کے مسلح افراد نےمحمد بن شیخ اور ایک اور سفارت کار العروسی قنطاسی کو حال ہی میں طرابلس میں تیونسی سفارت خانے سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ان مسلح افراد نے حالیہ مہینوں کے دوران مختلف ممالک کے سفارتی مشنوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔انھوں نے اردن کے سفیر کو یرغمال بنا رکھا ہے اور پرتگال کے سفارت خانے پر بھی حملہ کیا تھا۔

طرابلس میں متعین سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ سابق صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والے جنگجو اب دوسرے ملکوں کو بلیک میل کرنے کے لیے ان کے سفارتی عملے کے ارکان کو اغوا کررہے ہیں اور پھر ان کے بدلے میں ان ممالک میں قید لیبی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔