شوہروں پر تشدد، 4 سعودی خواتین کو مقدمات کا سامنا

چہرے پر تھپڑ مارنا بڑا جرم ہے: وزارت سماجی بہبود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں نیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس ان دنوں ان چار سعودی خواتین پر مقدمہ چلانے پر غور کر رہی ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے شوہروں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ واضح رہے دنیا کے مختلف ممالک میں گھریلو تشدد کے قوانین موجود ہیں یا بنائے جا رہے ہیں ۔ ان قوانین کا مقصد با لعموم خواتین کو شوہروں کے تشدد اور مارپیٹ سے بچانا ہے شوہروں کو بیگمات تشدد سے محفوظ رکھنا نہیں ہے۔

تاہم سعودی عرب کی این ایس ایچ آر کے چئیرمین مفلح القہتانی کا کہنا ہے کہ ''اپنے شوہروں کے خلاف ان منہ زور خواتین پر تشدد اور زیادتی کے انسداد سے متعلق قوانین کے تحت بھی مقدمات چل سکتے ہیں۔ انہی قوانین کے تحت شوہروں پر زور آزمائی کرنے والے ''چار کے ٹولے'' کو قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ ''

القہتانی نے یہ بات انسداد تشدد کے قوانین کے بارے میں ہونے والی ایک ورکشاپ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ اس ورکشاپ کا مقصد خواتین پر مردوں کا تشدد روکنے کے لیے آگاہی بڑھانا اور قوانین کو موثر بنانے کا احساس اجاگر کرنا تھا۔ مفلح القہتانی نے کہا '' یہ جج کی صوابدید پر ہے کہ وہ شوہر کو اہلیہ پر تشدد کرنے پر کیا سزا دیتا ہے۔''

القہتانی نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کسی خاتون کو اس کے شوہر کی طرف سے چہرے پر تھپڑ رسید کیا جانا اس کے مقابلے میں بڑا جرم ہے کہ شوہر نے اپنی اہلیہ کو اس کی کمر یا کمر سے نیچے کے حصے پر مارپیٹ کی ہو۔

اس موقع پر وزارت سماجی بہبود کے انڈر سیکرٹری عبداللہ الیوسف نے کہا ''اگر کوئی شوہر اپنی اہلیہ پر تشدد کرے گا تو اسے پچاس ہزار سعودی ریال جرمانے کی ادائیگی کرنا ہو گی۔ یہ جرمانہ وزارت خزانہ وصول کرے گی ۔'' انڈر سیکرٹری کے مطابق ''اس جرمانے کی رقم سے مار کھانے والی بیگم کو کچھ نہیں ملے گا۔ ''

عبداللہ الیوسف نے مزید کہا'' تشدد کا نشانہ بننے والی کوئی خاتون اگر اپنے تشدد کے مرتکب شوہر کے خلاف مزید انصاف کی طلبگار ہوئی تو وہ عدالت سے رجوع کر سکے گی۔'' سماجی بہبود کے محکمے کے اس ذمہ دار نے یہ بھی کہا '' تشدد کرنے والا شوہر ہو یا بیوی ایک سال تک کی قید اور پچاس ہزار ریال تک کا جرمانہ بھگتنا پڑے گا۔'' تاہم بعد ازاں وزارت کی طرف سے وضاحت کی گئی ہے کہ شوہر کو جرمانے کی سزا جرم ثابت ہونے پر عدالت ہی کرسکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں