.

ابو طالبی کیلیے امریکی ویزا، اقوام متحدہ سے ایرانی رابطہ

معاملہ قواعد کے مطابق تین رکنی ٹریبونل میں جا سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اقوام متحدہ کیلیے اپنے نئے سفیرحامد ابو طالبی کو امریکی ویزا دلوانے کی خاطر عالمی ادارے سے اثرو رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب امریکا اپنے اس فیصلے پر قائم ہے کہ ابو طالبی کے 52 امریکیوں کو یرغمال بنانے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر ویزا جاری نہں کرے گا۔

امریکا کا موقف ہے کہ ابو طالبی نے 1979 میں 444 دنوں کے لیے امریکی عملے کو یرغمال بنانے میں حصہ لیا تھا۔ اس لیے انہیں امریکی سرزمین پر آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ ابو طالبی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے میں صرف مترجم کے طور پر حصہ لیا تھا۔

ایران حامد ابوطالبی کو اپنی سفارتی ٹیم کے نمایاں ترین لوگوں میں سے ایک قرار دیتا ہے ۔ لیکن امریکی انتظامیہ نے ایران کو باضابطہ طور پر اس سفیر کیلیے ویزا دینے سے انکار کر رکھا ہے۔ اس صورت حال میں ایران نے اقوم متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا سے ویزا جاری کرنے کیلیے کہے۔

اقوام متحدہ کی میزبان ملک کے ساتھ اس نوعیت کے معاملات کو دیکھنے والی کمیٹی کو ایران کی یہ درخواست باضاطہ طور پر پیش کی گئی ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کیلیے ایران کے نائب سفیر نے کہا '' یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، اس لیے کمیٹی اسے فوری طور پر سنجیدگی کے ساتھ امریکا کے ساتھ زیر بحث لائے۔''

اس بارے میں ایران کا موقف ہے کہ ''ویزا جاری کرنے سے انکار کر کے امریکا 1947 کے ہیڈ کواٹَرز سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ '' واضح رہے اس معاہدے کے مطابق امریکا بالعموم ویزے جاری کر دیتا ہے لیکن اس کیس میں امریکا اپنی'' سلامتی ، دہشت گردی اور اپنی خارجہ پالیسی کی وجوہ پر ایسا کرنے سے انکاری ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک کا کہنا ہے '' ہماری اطلاع میں یہ ایک منفرد معاملہ ہے۔'' واضح رہے اقوام متحدہ کی 19 رکنی کمیٹی میزبان ملک کے ساتھ اس سلسلے میں اپنے وکلاء سے بھی رائے لے سکتی ہے۔

اقوام متحدہ اور امریکا کے درمیان معاہدے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا '' تنازعہ تین رکنی ٹریبیونل کے سامنے پیش کیا جائے گا، تین ارکان میں سے ایک اقوام متحدہ کی مرضی سے، ایک امریکا کی مرضی سے اور تیسرا رکن دونوں کے اتفاق سے لیا جائے گا۔ بصورت دیگر بین الاقوامی عدالت انصاف کا صدر تین رکنی ٹیبیونل کی تقرری کرے گا۔ ''

ایراننی نائب سفیر کے مطابق انہوں نے اقوام متحدہ کے قانونی مشیر سے کہا ہے کہ اس مقصد کیلیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ امریکا کو 1947 کے معاہدے کی پابندی پر آمادہ کیا جا سکے۔ دوسری جانب امریکی صدر اوباما کانگریس کے شدید دباو میں ہیں کہ وہ ابو طالبی کو امریکی ویزا جاری نہ ہونے دیں۔