.

صدر اولاند کا فرانسیسی"مجاہدین" کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے شام اور دوسرے ملکوں میں جہاد پر جانے والے اپنے ملک کے شہریوں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانسیسی باشندوں کو شام اور دوسرے جنگی محاذوں پر 'جہاد' کے لیے جانے اور دوسرے لوگوں کو بھرتی کرنے سے سختی سے روکا جائے گا اور بیرون ملک جہاد میں ملوث عناصر کو کڑی سزا دی جائے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق صدر اولاند نے یہ بات پیرس میں عرب ورلڈ انسٹیٹیوٹ میں "حج" کے حوالے سے لگائی گئی ایک خصوصی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بیرون ملک جہاد پر جانے کا رجحان ہر صورت میں ختم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم تمام وسائل اور جدید ٹیکالوجی سمیت ہر قسم کا ہتھیار استعمال کریں گے۔

فرانسو اولاند کا کہنا تھا کہ ہم بیرون ملک جہاد میں دلچسپی رکھنے والے فرانسیسی مسلمان خاندانوں کے پاس لوگوں کو بھیجیں گے جو انہیں سمجھائیں گے اور وہ پھر بھی باز نہ آئے تو ریاست اپنا فیصلہ کرے گی۔ اس کے بعد کوئی بھی شخص بیرون ملک جہاد پر گیا پایا گیا تو اس کے خاندان کو اس کی سزا بھگتنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اس اقدام کا مقصد مسلمانوں کو ایمان سے دور کرنا ہر گز نہیں ہے لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ دین کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ دہشت گردی کے لیے تو کسی طور پر بھی نہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فابیوس نے اپنے ایک بیان میں تسلیم کیا تھا کہ فرانس سے کم سے کم پانچ سو افراد شام کے جہاد پر جا چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس سے مسلمانوں کا بیرون ملک جہاد پر جانے کا یہ پہلا موقع نہیں، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے لیکن اس میں نئی بات یہ ہے کہ کم عمر لڑکے بھی شام کے محاذ جنگ پر جا رہے ہیں۔