.

سیکڑوں طلباء سے بدفعلی کا اقراری مُجرم امریکی استاد!

ملزم نو ممالک میں 40 سال تک بچوں سے بدسلوکی کرتا رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بچوں سے مبینہ بدفعلی کے مرتکب ایک نام نہاد استاد کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کی ہیں جس کی خودسوزی کے بعد پتہ چلا ہے کہ وہ چالیس سال تک نو مختلف ملکوں میں 10 امریکی اسکولوں میں تدریس کے دوران بچوں سے بدسلوکی کرتا رہا ہے۔ یوں سعودی عرب، لبنان، ایران، انڈونیشیا، وینزویلا، یونان، اسپین، برطانیہ اور امریکا کے سیکڑوں کم عمر بچے ولیم جیمز فاھی کی شیطانی ہوسناکی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملزم ولیم جیمز نے تقریبا ایک ماہ قبل اس وقت خود کشی کر لی تھی جب وسطی امریکا کی ریاست نیکارا گوا میں ایک سکول کی انتظامیہ نے اس کے قبضے سے ایک میموری ڈیوائس "USB" لی جس میں سیکڑوں بچوں کی عریاں تصاویر موجود تھیں۔ جن میں کچھ بے ہوش بچوں کی تصاویر بھی شامل تھیں۔ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت جیمز اسی اسکول میں پڑھا رہا تھا۔

ایف بی آئی کی ویب سائیٹ سے ولیم جیمز کے بارے میں اچھی خاصی معلومات ملی ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا اس نے خود کشی کیسے کی تھی۔ تاہم پتہ چلا ہے کہ خود کشی کی وجہ بچوں کی عریاں تصاویر سے بھری "یو ایس بی" کا پکڑا جانا تھا کیونکہ اس کے بعد ملزم کو گرفتار کیے جانے کا خوف لاحق ہوگیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ولیم جیمز نے تدریسی کام کا آغاز سنہ 1072ء میں ایران کے صدر مقام تہران کے ایک امریکی اسکول میں تاریخ اور جغرافیا کے استاد کے طور پر کیا۔

پانچ سال بعد اسے بیروت میں امریکی کمیونٹی اسکول میں تعینات کر دیا گیا۔ سنہ 1980ء میں بارہ سال کے لیے سعودی عرب کے شہر الظہران میں امریکی اسکول میں متعین ہوا۔ مجموعی طور پر چالیس سال کے عرصے میں اس نے امریکا سمیت بیرون ملک نو ملکوں میں دس اسکولوں میں خدمات انجام دیں۔

ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق ولیم جیمز کی ہوسناکی کا نشانہ بننے والے بیشتر بچوں کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔ اسی بدبخت امریکی کو سنہ 1969ء میں ریاست کیلفورینیا میں بچوں پر جنسی تشدد کے الزام میں قید کی سزا ہوئی اور اس نے کچھ عرصہ جیل میں بھی گذارا تھا۔ جیل سے نکلنے کے بعد اس نے بچوں پر جنسی تشدد اپنا 'پیشہ' بنا لیا اور پوری دیدہ دلیری کے ساتھ سیکڑوں بچوں کی عزت سے کھیلتا رہا۔ اگر نیکارا گوا کے شہر ماناگوا کے اسکول کی انتظامیہ اس کی مشکوک یو ایس بی نہ پکڑتی تو نہ جانے کتنے اور معصوم جیمز کی درندگی کا نشانہ بنتے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ولیمز جیمز کی خود کشی سے ریاست نیکارا گوا کے مقامی اخبارات کی چھان پھٹک کی ہے لیکن کسی جگہ کوئی خبر نہیں مل سکی۔ "ایف بی آئی" کی ویب سائٹ کے علاوہ کہیں اور اس کی تصاویر بھی دستیاب نہیں ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق نیکارا گوا کے اسکول کی انتظامیہ نے جیمز سے بچوں کی برہنہ تصاویر کی بابت پوچھا تو اس نے اعتراف کیا کہ یہ تصاویر کئی سال پرانی ان بچوں کی ہیں جنہیں وہ جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ جب اس سے بے ہوش بچوں کی تصاویر بارے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ان میں سے کچھ کو بے ہوشی کی گولیاں کھلائی گئی تھیں اور کچھ جنسی تشدد کے نتیجے میں بے ہوش ہوئے تھے۔ جب ان تصاویر کا کمپیوٹر کے ذریعے ریکارڈ چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ 90 بچوں کی تصاویر 2008ء کی ہیں جنہیں ایک سال میں درندگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جبکہ استاد کے نام پر بدنام دھبہ بننے والا یہ امریکی پچھلے چالیس سال سے یہ غیر فطری اور غیر قانونی کھیل کھیلتا رہا ہے۔

بال کی کھال اتارنے کی شہرت رکھنے والے امریکی خفیہ اداورں کے لیے ولیم جیمز فاھی کا گھناؤنا کھیل لمحہ فکریہ ہے۔ ایف بی آئی نے اخلاقیات اور انسانیت کے بدترین دشمن کے بارے میں معلومات اب جمع کرنا شروع کی ہیں جب وہ اپنی موت مر چکا ہے۔