.

فلسطینی جماعتیں متحد ہو گئیں، امریکا مایوس ہوگیا

اپنی تشویش سے فریقین کو آگاہ کر دیا ہے: امریکی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کو متحارب فلسطینی جماعتوں فتح اور حماس کے درمیان مفاہمتی معاہدے پر مایوسی ہوئی ہے۔ اس امر کا اظہار امریکی وزارت خارجہ نے کیا ہے۔ متحارب فریق امکانی طور پر گزشتہ سات برسوں پر محیط اختلافات ختم کر دیں گے، کیونکہ دونوں جماعتوں نے مشترکہ عبوری حکومت کے قیام اور مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ غزہ میں نئے انتخابات پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔

دونوں فلسطینی جماعتوں نے باہم اتفاق کیا ہے کہ قومی حکومت الفتح کی سرپرستی میں قائم ہو گی اور اس کی تشکیل پانچ ہفتوں کے دوران مکمل کر لی جائے گی، جبکہ نئے انتخابات چھ ماہ میں کرانے کیلیے اتفاق کیا گیا ہے۔

واضح رہے امریکی وزارت خارجہ 1997 سے حماس کو ایک دہشت گرد جمات قرار دے چکی ہے۔ حماس اب اپنے عوامی مینڈیٹ اور فتح کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد صرف غزہ میں نہیں بلکہ پورے مغربی کنارے میں بھی شریک اقتدار ہو گی۔

حماس اپنے موقف کی وجہ سے امریکی کوششوں سے شروع ہونے والے امن مذاکارات کا بھی کبھی حصہ نہیں رہی ہے۔ ایسے موقع پر جبکہ امریکا امن مذاکرات کے حوالے سے اسرائیل کو رام کرنے کیلیے کوشاں ہے لیکن دونوں اسرائیل اپنے وعدوں پر عمل کیلیے تیار نہیں ہے امریکی ترجمان جین پاسکی نے کہا ہے کہ '' یہ پیش رفت امریکا کیلیے مشکل پیدا کرنے والی ہے، اس لیے یقینی طور پر ہم مفاہمت کے اس اعلان سے مایوس ہوئے ہیں۔''

دونوں اہم ترین فلسطینی جماعتوں کے ہاں باہمی تعاون اور قربت کے حوالے سے یہ پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب امن مذاکارات کی ڈیڈ لائن قریب تر ہے، یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اگر اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی حتمی معاہدے کیلیے ایک فریم ورک پر اتفاق نہی کرتے تو امن مذاکرات کا انجام کیا ہوگا۔

جین پاسکی کا کہنا ہے '' یہ مفاہمتی معاہدہ ہماری امن کوششوں کو غیر معمولی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے، نہ صرف امریکی کوششوں کو بلکہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔'' واضح رہے اسرائیلی حکومت فتح اور حماس کے درمیان ایک روز قبل طے پانے والے اس معاہدے پر پہلے ہی اپنا ردعمل سامنے لا چکی ہے۔

اسرائیل نے اس معاہدے کے بعد فلسطینی حکام کے درمیان ہونے والے دوطرفہ مذاکراتی سیشن کو منسوخ کردیا ہے۔ خیال رہے دونوں کے درمیان یہ مذاکرات بدھ کے روز طے ہونا تھے۔

جین پاسکی نے اس سوال پر ''کیا اب سارے فلسطینی مل کر امن مذاکرات کے حوالے سے بہتر انداز میں کردار ادا کر سکتے ہیں'' کہا '' یہ بہت خوش گمانی والی بات ہے۔'' ترجمان نے مزید کہا ''امریکا نے فلسطینیوں کے متحد ہونے والے معاہدے پر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل دونوں کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔''