.

یمنی فوج کے تازہ حملوں میں 60 القاعدہ جنگجو ہلاک

صدر ھادی کی دوست ممالک سے مزید امداد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران ملک کی جنوبی گورنریوں ابین، دار البیضاء اور شبوہ میں فوج کی کارروائی میں شدت پسند تنظیم القاعدہ سے وابستہ انصار الشریعہ کے کم سے کم 60 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ مارے جانے والوں میں تنظیم کے کئی سینیئر کمانڈر بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر عبد ربہ نے یہ دعویٰ سیکیورٹی کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے سیکیورٹی حکام کو ہدایت کی وہ القاعدہ جنگجوؤں اور دیگر شدت پسندوں کی کارروائیوں پر چوکنے اور خبردار رہیں اور ملک دشمن عناصر جہاں ملیں انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اجلاس میں جنوبی اور شمالی یمن کے شورش زدہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی عسکریت پسندوں کے خلاف جرات مندانہ کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔ صدر نے دہشت گردوں کے خلاف فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر فوجی افسروں اور جوانوں کی تعریف کی۔

صدر ھادی کا کہنا تھا کہ یمن سنہ 2001ء کے بعد سے بین البراعظمی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ یہ دہشت گرد سرحد پار سے داخل ہو کر یمن کا امن تباہ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ صدر عبد ربہ منصور ھادی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ چند ایام میں امریکا کے مبینہ طور پر کیے گئے ڈرون حملوں میں القاعدہ کے چالیس سے زائد جنگجوؤں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات آئی تھیں۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ ماہ مئی میں سیکیورٹی اور سیاسی شعبوں میں نئی اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ فوج اور سول سروسز کے اداروں میں فنگر پرنٹس کا نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ مختلف اداروں میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی دوہری سروسز کو ختم کر کے ان کا ریکارڈ کو درست کیا جا سکے۔ یہ کام آئندہ ستمبرتک مکمل کر لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یمن میں مختلف سیکیورٹی اداروں میں خدمات انجام دینے والے اہلکار دوہری ملازمت کرتے رہے ہیں۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق یمن کی باضابطہ سیکیورٹی فوسز کے تمام اہلکاروں کی کل تعداد ایک لاکھ 50 ہزار ہے جن میں 75 ہزار ری پبلیکن گارڈز اور 45 ہزار آرمڈ ڈویژن میں شامل میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ جبکہ چالیس ہزار اہلکار وزارت داخلہ کے زیر انتظام سیکیورٹی اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح سول سروسز کے ایک لاکھ 75 ہزار اہلکار ڈبل ڈیوٹیاں دیتے رہے ہیں۔

انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ ہفتے لندن میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس میں دوست ممالک سے امداد کے حوالے سے رابطے تیز کریں اور دوست ملکوں کو یمن کے سیکیورٹی، سیاسی اور معاشی بحرانوں سے آگاہ کیا جائے۔ صدر ھادی نے خود بھی عالمی برادری سے یمن کو مزید امداد فراہم کرنے کی اپیل کی۔