.

یوکرین خرابی، ذمہ داری امریکا اور یورپ پر ہے: روس

سرگئی لاوروف کو جلد معاہدے کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکا اور مغربی ممالک پر الزام عاید کیا ہے کہ ماہ فروری میں یوکرین کے صدر کو اقتدار سے الگ کرنے کی تحریک کے پیچھے ان ملکوں کا کردار تھا۔

خبر رساں ادارے انٹر فیکس کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے کہا'' یوکرین میں امریکا اور یورپی یونین نے سٹیج لگانے کی کوشش کی، اس لیے ہمیں چیزوں کو وہی نام دینا چاہیے جیسی کہ وہ ہوتی ہیں، یہ ایک دوسرے رنگ کا انقلاب تھا اور ایک غیر آئینی تبدیلی کی کوشش تھی۔''

سرگئی لاوروف نے 2004 اور 2005 کے دوران آنے والے نارنگی انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا '' یہ انقلاب ''رن آف ووٹ '' کے بعد آیا تھا۔ روسی وزیر خارجہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ یوکرین کے معاملے پر بین الاقوامی معاہدہ ہو جائے گا تاکہ مسئلے کے حل کیلیے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں۔

واضح رہے روس، یوکرین ، امریکا اور یورپی یونین نے اس بحران سے نکلنے کیلیے پچھلے ہفتے جنیوا میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس سے پہلے یوکرین کے مسئلے پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔

ماسکو یہ توقع کرتا ہے کہ جنیوا میں طے پانے والے معاہدے پر جلد عمل درآمد ہو جائیگا۔ درایں اثناء یوکرینی وزیر داخلہ آرسن آواکوف کا کہنا ہے کہ پولیس نے روس کے حامی شہرمیں صورت حال پر قابو پا لیا ہے۔ روسی حامیوں نے اس پر ایک ہفتے تک قبضہ کیے رکھا ہے۔