دو لبنانی مدیروں کو حریری ٹرائبیونل کی توہین پر نوٹس

ہیگ میں قائم عدالت نے لبنان کے دو میڈیا اداروں کو بھی نوٹس جاری کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سابق لبنانی وزیراعظم مقتول رفیق حریری کے قتل کیس کی سماعت کرنے والے ہیگ میں قائم خصوصی ٹرائبیونل برائے لبنان (ایس ٹی ایل) نے توہین عدالت کے الزام میں دو مدیروں اور میڈیا اداروں کے ذمے داروں کو طلب کر لیا ہے۔

ایس ٹی ایل نے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ '' (لبنان کے) الجدید ٹی وی کے ڈپٹی چیف کرما محمد تحسین الخیاط اور اس کی مادر کمپنی نیو ٹی وی ایس ایل کو توہین عدالت اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ حائل کرنے کے دو الزامات پر طلب کیا گیا ہے''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''لبنانی روزنامے الاخبار کے مدیر اعلیٰ ابراہیم محمد الامین اور اس کی مادر کمپنی اخبار بیروت ایس اے ایل کو توہین عدالت اور انصاف کی راہ میں حائل ہونے کے ایک الزام میں ایس ٹی ایل میں طلب کیا گیا ہے''۔

جدید ٹی وی چینل اور اس کے ڈپٹی چیف اور لبنان کی شیعہ عسکری جماعت حزب اللہ کے حامی الاخبار کے مدیر اعلیٰ پر الزام ہے کہ انھوں نے جانتے بوجھتے ہوئے رفیق حریری قتل کیس کے خفیہ گواہوں سے متعلق معلومات کو نشر اور شائع کر کے انصاف کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کی تھی۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال اپریل میں ''سچائی کے صحافی'' نامی ایک غیر معروف گروپ نے رفیق حریری قتل کیس میں نامزد کیے گئے ایک سو سڑسٹھ گواہوں کی ایک فہرست شائع کی تھی اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایس ٹی ایل میں ہونے والی کرپشن کو مںظرعرام پر لانا چاہتا تھا۔الاخبار اور الجدید دونوں نے اس فہرست کو شائع اور نشر کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے نیدر لینڈز کے شہر ہیگ کے نزدیک قائم کردہ خصوصی ٹرائبیونل برائے لبنان (ایس ٹی ایل) نے سابق وزیراعظم رفیق حریری کی نوسال قبل بیروت میں ایک خودکش بم دھماکے میں ہلاکت کے الزام میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے چارارکان کے خلاف اسی سال باضابطہ طور پر فرد جرم عاید کی ہے۔ایس ٹی ایل نے جنوری میں اس مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا تھا۔

ایس ٹی ایل کے پراسیکیوٹر نے جولائی 2011ء میں حزب اللہ کے چار ارکان کے خلاف نو الزامات میں فرد جرم جاری کی تھی لیکن شیعہ عسکری تنظیم نے اس واقعہ میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے جن کارکنان کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی ہے ،انھیں ہیگ میں قائم ٹرائبیونل کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

ٹرائبیونل نے جون 2012ء میں حزب اللہ کے ان چار مشتبہ ارکان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے لیکن بعد میں لبنانی حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ ان میں سے کسی کا بھی سراغ لگانے میں ناکام رہے تھے۔حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے چاروں ملزموں کے نام سلیم عیاش ،مصطفیٰ بدرالدین،حسین انیسی اور اسد صابرہ ہیں۔ان میں سے دو کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت ایران میں رہ رہے ہیں۔

ٹرائبیونل کے چیف پراسیکیوٹر نورمن فیرل نے اپنی فرد جرم میں کہا تھا کہ بدرالدین اور عیاش 14 فروری 2005ء کو بیروت میں خودکش بم حملے سے قبل رفیق حریری کی نگرانی کرتے رہے تھے جبکہ انیسی اور صابرہ نے تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کے لیے بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔

اڑتالیس سالہ سلیم عیاش اور پچاس سالہ مصطفیٰ بدرالدین کے خلاف دھماکا خیز مواد کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائی انجام دینے پر پانچ الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی جبکہ اڑتیس سالہ حسین انیسی اور پینتیس سالہ اسد صابرہ پردہشت گردی کی کارروائی کے لیے معاونت اور منصوبہ بندی کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے پانچویں مشتبہ ملزم اڑتالیس سالہ حسن حبیب مرحی کو گذشتہ سال اس کیس میں ماخوذ کیا گیا تھا۔

لبنان کی طاقتور شیعہ تنظیم حزب اللہ رفیق حریری پر خودکش بم حملے کے واقعہ میں ملوث ہونےکی تردید کر چکی ہے۔اس نے اقوام متحدہ کے ٹرائبیونل پر امریکی اور اسرائیلی آلہ کار ہونے اور اس کے تفتیش کار پر ماضی میں صہیونی ریاست کو اپنی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔تاہم ٹرائبیونل کےترجمان نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

ایس ٹی ایل بین الاقوامی نظام انصاف کے تحت قائم کردہ ایک منفرد عدالت ہے۔اس کو دہشت گردی کے حملے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن یہ خصوصی ٹرائبیونل ملزموں کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں بھی مقدمہ چلا سکتا ہے اور اب وہ ایسا ہی کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں