روسیوں کے زیرقبضہ قصبے میں یورپی مبصرین گرفتار

سویڈش وزیرخارجہ کا یورپی مبصر مشن کے ارکان کی فوری رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے مشرقی قصبے سلویانسک میں روس نواز باغیوں نے یورپی مبصر مشن کے سات ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

کیف میں یوکرینی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''سلویانسک کے داخلی راستے کے نزدیک نامعلوم افراد نے ایک بس کو روکا۔اس میں یورپی مبصر مشن کے سات نمائندے ،یوکرین کی مسلح افواج کے پانچ اہلکار اور ایک ڈرائیور تھا''۔وہ ان کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''ان مسافروں کو قصبے میں سکیورٹی سروسز کی ایک زیر قبضہ عمارت میں لے جایا گیا ہے اور باغی رشین فیڈریشن کے مجاز حکام سے بات کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں''۔

ویانا میں قائم یورپی تنظیم برائے سلامتی اور تعاون (او ایس سی ای) نے فوری طور پر اس اطلاع کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ یوکرین میں برسرزمین موجود تمام مبصرین کی تعداد پوری ہے۔تاہم اس نے وضاحت کی ہے کہ تنظیم کا الگ سے ایک فوجی تصدیقی مشن بھی موجود ہے۔

سلویانسک کے مئیر ویاچیسلیف پونوماریوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''بس میں ایک جاسوس بھی سوار تھا۔وہ یوکرین کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے لیے کام کر رہا تھا''۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے اس مبینہ جاسوس کو گرفتار کر لیا ہے۔اس پر انھوں نے کہا کہ ''میں نہیں جانتا بلکہ میرا عملہ اس معاملے کو دیکھ رہا ہے''۔ان اہلکاروں کے مبینہ اغوا پر عالمی سطح پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔سویڈش وزیر خارجہ کارل بلڈت نے ان کو حراست میں لینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گرفتار اہلکاروں میں ایک سویڈش بھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں