.

افغانستاں صدارتی انتخابی نتائج کا اعلان، ووٹنگ دوبارہ ہو گی

عبداللہ عبداللہ کو چوالیس فیصد ووٹ ملے، جیت کیلیے پچاس فیصد ضروری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پانچ اپریل کو افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخاب کا باضابطہ نتیجہ سامنے آ گیا ہے، تاہم کسی بھی امیدوار کے پچاس فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکنے کی وجہ سے اب رن آف الیکشن ہو گا۔ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے درمیان 28 مئی کو پھر مقابلہ ہو گا۔

ہفتے کی شام الیکشن کمیشن کی طرف سے کیے گئے اعلان کے مطابق سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ نے چوالیس اعشاریہ نو فیصد ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ جبکہ ان کے قریب ترین حریف سابق وزیر خزانہ اشرف غنی رہے ہیں۔ جنہیں مجموعی ووٹوں میں سے اکتیس اعشاریہ پانچ فیصد ووٹ ملے ہیں۔

اشرف غنی نے عبداللہ عبداللہ کے مقابلے میں تیرہ فی صد ووٹ کم لیے ہیں۔ افغان دستور کے مطابق صدارتی انتخاب جیتنے کیلیے کم از کم پچاس ووٹ حاصل کرنا ضروری ہیں۔ اگر کوئی ایک امیدوار بھی پچاس فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکے تو پھر نمایاں ترین رہنے والے دو صدارتی امیدواروں کے درمیان ایک مرتبہ پھر انتخابی معرکہ ہو گا اور صرف انہی دو کے درمیان ہو گا۔ 19 اپریل کو غیر حتمی نتائج میں بتایا گیا تھا عبداللہ عبداللہ کو دس فیصد ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

افغان الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق چونکہ کسی امیدوار کو آئین کے مطابق لازمی برتری نہیں مل سکی اس لیے اگلے ماہ 28 مئی کو رن آف الیکشن ہو گا۔ اس طرح افغان ووٹروں کو ایک مرتبہ پھر اپنی مرضی کا صدر چننے کا موقع ملے گا۔ یہ رن آف الیکشن کا سلسلہ اس وقت تک دہرایا جاتا رہے گا جب تک ڈالے گئے ووٹوں کا پچاس فی صد نہیں حاصل کر لے گا۔ تاہم امیدوار صرف عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی ہوںگے۔