.

امریکی خاتون کی چھاتی سوا لاکھ شہد کی مکھیوں کا مسکن

ماپیلی کے جسم میں ڈنگ برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شہد کی مکھیاں کسی آدمی، زندہ یا متحرک چیزوں سے دور اپنے ٹھکانے بناتی اور محفوظ مقامات پر شہد تیار کرتی ہیں لیکن امریکا میں ایک خاتون کے برہنہ نازک جسم پر ایک لاکھ بیس ہزار شہد کی مکھیوں کے ھجوم نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ خاتون کے جسم میں آخر ایسا کیا راز ہے کہ شہد کی مکھیوں کی ایک فوج ظفر موج اس سے چمٹی ہوئی ہے۔ حیرت کا مقام یہ ہے کہ خود اس امریکی خاتون کو بھی اپنے جسم سے چمٹی شہد کی مکھیوں کی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ اس کے جسم میں ڈنگ برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ پُراسرار خاتون 44 سالہ مسز ماپیلی ہے جو امریکی شہر اریگان سے تعلق رکھتی ہے۔ حیرت کدہ کائنات بنی اس خاتون کوسنہ 2001ء میں پتہ چلا کہ اس کے جسم حتیٰ کی نازک حصوں پر بھی شہد کی مکھیوں کی نقل وحرکت کو برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ آزمائش کے طور پر شہر میں شہد کی مکھیوں کے ایک چھتے کے قریب جا کر اس نے خود کو آزمانے کی کوشش کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کی تعداد میں شہد کی مکھیاں اس کے جسم سے اس طرح چمٹ گئیں جیسے وہ ان کا شہد کا گھر ہو۔

اپنی ویب سائٹ پر ماپیلی نے لکھا ہے کہ "میرے جسم میں شہد کی مکھیوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت ایک قدرتی عمل ہے۔ شاید میرا اور شہد کی مکھیوں کا کوئی 'روحانی' تعلق ہے کیونکہ شہد کی مکھیاں مجھ سے چمٹنے کے بعد پورے جسم پر رقص کے انداز میں گھوم رہی ہوتی ہیں لیکن اس پر ذرا برابر پریشانی نہیں ہوتی"۔

ماپیلی کا کہنا ہے کہ"میں خود کو شہد کی مکھیوں کا ایک چھتا محسوس کرتی تھی، جب شہد کی مکھیوں نے واقعی میرے جسم سے چمٹ کر میرے اس خیال کو سچ کر دکھایا تو میں انہیں اپنے پورے جسم پر پھیلاتی گئی اور ایک اندازے کے مطابق ایک وقت میں میرے جسم پر شہد کی مکھیوں کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ تھی۔

ماپیلی نے اپنے جسم سے شہد کی مکھیوں کے چمٹنے کا راز بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اپنے جسم پر"شہد ورکرز" کی طرح خوشبودار تیل مل لیتی ہے۔ یہ ایسا تیل ہوتا ہے جس میں ایک سو مختلف خوشبوئیں شامل ہوتی ہیں، اس کے بعد شہد کی مکھیاں دیوانہ وار میرے جسم سے چمٹ جاتی ہیں۔ اس طرح بعض اوقات دو دو گھنٹے تک میرے جسم پر کھیلتی ہیں۔ جب میں تھک جاتی ہوں تو اپنے کسی قریبی شخص کی مدد سے اُنہیں ہٹانے کی کوشش کرتی ہوں یا چھلانگ لگاتی ہوں۔

جب تک شہد کی مکھیاں میرے جسم پر رہتی ہیں وہ مجھے ڈنگ مارتی رہتی ہیں۔ مکھیوں کے چلے جانے کے بعد ان کے ڈنگ کے کانٹے ایک نرم برش کی مدد سے پورے جسم سے صاف کیے جاتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ سب سے زیادہ دردناک ڈنگ شہد کی چھوٹی مکھی کا ہوتا ہے جو عموما بغل، بالوں، چھاتی، اور ٹھوڑی سے چمٹ جاتی ہیں۔