.

جاپانی روبوٹ اور صدر اوباما کے درمیان 'فٹ بال میچ'

"آسیمو" نو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سائنس کی برق رفتار ترقی نے انسان کی طرح آلات تیار کرنے اور روبوٹ بنانے کا فن سکھایا۔ آج یہ فن کافی حد تک ترقی کر چکا ہے اور حضرت انسان کے بنائے روبوٹ نہ صرف گھریلو کاموں کے لیے استعمال ہونے لگے ہیں بلکہ کھیل کود کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس باب میں جدید ترین روبوٹس میں جاپان کے "آسیمو" کا نام بھی سر فہرست ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گھر کے کام کاج کے ساتھ اب یہ روبوٹ امریکی صدر باراک اوباما جیسے طاقت ور حکمرانوں کے ساتھ فٹ بال کے مقابلوں میں بھی شامل ہو گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں امریکی صدر براک اوباما نے مارکیٹ سے "آسیمو" کا ایک روبوٹ خرید کیا جس کے ساتھ انہوں نے کچھ دیر فٹ بال بھی کھیلا۔ اس ربورٹ کا وزن پچاس کلو گرام بتایا جاتا ہے جو عام طور پر معمر افراد کی دیکھ بحال اور کسی مشکل مہم میں انسان کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

آسیمو برطانوی کارساز کمپنی"ہونڈا" کی ایجاد ہے۔ کمپنی نے سب سے پہلا روبوٹ سنہ 1986ء میں تیار کیا تھا جو پندرہ منٹ میں ایک قدم اٹھا سکتا تھا لیکن آج اس روبوٹ کی تیسری نسل تیار ہو چکی ہے جو نو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے، سیڑھیا چڑھنے، مہمانوں سے مصافحہ کرنا اور اشاروں میں ان سے بات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ آسیمو جیسے روبورٹ کی تیاری انسان نما سائنسی مشین کی طرف اہم قدم ہے مگر ایک مثالی انسانی خوبیوں اور انسانی جذبات واحساسات رکھنے والے روبوٹ کی تیاری اب بھی اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے، تاہم جس طرح روبوٹ نے امریکی صدر کے ساتھ فٹ بال کھیلتے ہوئے بہترین کاکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے اس مشین کی صلاحیت اور افادیت کا اندازہ لگانا آسان ہے۔