.

شاہ عبداللہ کے نو سال، جامعات کی تعداد 33 ہو گئی

دور اقتدار میں میڈیکل سٹیز اور گروپ 20 کی رکنیت سمیت لاتعداد فلاحی منصوبے شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم حرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز جنہوں نے تقریبا نو سال پہلے اگست 2005 میں مسند اقتدار سنبھالی تھی، نو برسوں کے دوران سعودی عرب کو عالمی سطح پر قائم ایلیٹ کلب کا ممبر بنانے میں بڑی خوبی کے ساتھ کامیاب رہے ہیں۔ وہ مملکت السعودیہ کو ہر شعبہ زندگی میں مثالی اور عظیم الشان کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں غیر معمولی طور پر متحرک رہے ہیں۔

شاہ عبداللہ نے اپنی دور اندیشی، تدبر اور قوت متحرکہ کی بدولت دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کی اور اسی بنیاد پر عالمی برادری میں بااثر ترین افراد میں شامل ہیں۔ شاہ عبداللہ پچھلے نو برسوں سے سعودی عرب کی تعمیر و ترقی اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک قافلے کا ہراول دستہ ہیں جس کا رستہ روکنا کسی کیلیے ممکن نہیں ہے۔

سعودی عرب میں شاہ عبداللہ کی کامیابیوں کے حوالے سے ہر روز ایک نئے معیار کو چھونے کا ریکارڈ قائم ہو رہا ہے۔ اس ناطے ان کا دور حکمرانی شاندار حیثیت کا حامل ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل کے دوران جہاں شہریوں کی سہولت اور خدمت ان کی ترجیح اول رہی ہے وہیں ان کی اصلاحات کی اصل جدید اور متوازن ترقی ہے، تاکہ سعودی عرب کے سارے علاقے، قصبے اور شہر یکساں طور شاد و آباد نظر آئیں۔

شاہ عبداللہ کی طرف سے سرکاری حکام کو جاری کی جانے والی ہدایات اور احکامات کی روح یہ ہوتی ہے کہ '' شہری سب سے پہلے ہیں۔'' ان کے فیصلے شہریوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سامنے آتے ہیں جبکہ منصوبوں پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کی ترقی بھی ان کے پیش نظر رہتی ہے، تاکہ ہر اہم شعبہ زندگی میں سعودی شہری آگے بڑھ سکیں۔

اسی وجہ سے آج کا سعودی عرب تعلیم ، صحت، اور ہاوسنگ کے حوالے سے ان ملکوں کی صف میں آگے ہے جو ممالک اربوں خرچ کر کے تعلیم اور صحت کے میدانوں میں سرگرم رہتے ہیں۔ سعودی عرب بھی اربوں ریال خرچ کر کے عظیم جامعات اور صحت کی اعلی ترین سہولیات اور علاج گاہوں کی بنیاد پر شہر آباد کر رہا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران سعودی عرب نے صرف تعلیم اور صحت کے شعبوں پر اپنے سالانہ بجٹ کا 38 فیصد خرچ کیا ہے۔

سعودی حکومت نے شاہ عبداللہ کی زیر قیادت ہاوسنگ کے شعبے کو بھی غیر معمولی توجہ دی ہے اور 250 ارب ریال کی خطیر رقم سے پانچ لاکھ نئے مکان بنانے کی منظوری دی۔ نیز ملک میں ''رئیل اسٹیٹ ڈویلپنگ فنڈ'' قائم کیا گیا ہے۔ یہ سارے اقدامات شہریوں کے شاندار مسقبل کیلیے کیے جا رہے ہیں۔

شاہ عبداللہ کے دور قیادت میں ایک اور غیر معمولی بات خواتین کو با اختیار بنانے کے حوالے سے اقدامات ہیں۔ اس ناطے اصلاحات بھی کی گئی ہیں۔ اہم بات یہ رہی کہ خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بنایا گیا ہے اور 30 خواتین کو مجلس شوری میں نامزد کیا گیا ہے۔ اب خواتین کو نہ صرف ووٹ دینے کا حق ہے بلکہ وہ مقامی سطح کے انتخابات میں بطور امیدوار بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

خادم حرمین الشرفین نے حج اور عمرہ کی ادائیگی کے سلسلے میں بہترین سہولیات کا اہتمام کیا ہے۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی دوںوں میں توسیع کا سب سے بڑا منصوبہ رو بعمل ہے۔ ایک سو ارب ریال کی لاگت سے بیت اللہ کی وسعت تقریبا دوگنا ہو جائے گی۔ جس کے بعد بیس لاکھ شہری بیک وقت مسجد حرام میں نماز ادا کر سکیں گے۔

شاہ عبداللہ کے دور قیادت میں تعلیمی شعبے میں بطور خاص عدیم المثال ترقی ہو رہی ہے۔ تعلیم اور ٹیکنالوجی کی ترقی شاہ کی اہم ترین ترجیح ہیں۔ تعلیمی منصوبوں کو وسعت ملی، تقریبا تمام بڑے شہروں میں نئی جامعات قائم کی جا رہی ہیں۔ نو سال پہلے مملکت سعودیہ میں صرف نو جامعات تھیں ۔ اب ان کی تعداد 33 ہو چکی ہے۔ ان میں سے 28 جامعات سرکاری شعبےمیں کام کر رہی ہیں۔

2005 میں اقتدار پر فائز ہوتے ہی شاہ نے سعودی طلبہ کیلیے پوری دنیا میں تعلیم کا حصول آسان بنانے کیلیے تعلیمی وظائف کا اعلان کیا۔ گویا سعودی نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں ہر ممکن سہولیت بہم پہنچانا شاہ عبداللہ کی پہلے دن سے ترجیح تھی۔ اسی طرح شہریوں کی صحت کیلیے اقدامات بھی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کیلیے سعودی طلبہ و طالبات کو مختلف ممالک میں طبی تعلیم کیلیے بھجوانے کے منصوبے شروع کیے تاکہ سعودی ڈاکٹروں کی ایک کھیپ بھی تیار ہو سکے۔

سعودی عرب میں میڈکل سٹیز قائم کرنے کی روایت آگے بڑھی، طبی تعلیم اور علاج معالجہ کیلیے سہولیات کو یکجا کر دیا گیا۔ ہر جگہ علاج معالجے کی سہولیات معیار کے ساتھ فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس میدان میں ایک انقلاب آفریں ماحول ہے۔ یہ شاہ عبداللہ کی قیادت کے بدولت ہے کہ مملکت میں اقتصادی اور معاشی میدان میں مثالی ترقی کا رجحان ہے۔ صرف نو سال کی مختصر مدت کے دوران سعودی عرب دنیا کے معاشی اعتبار سے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ اسی عرصے میں اسے گروپ 20 کی رکنیت حاصل ہوئی ہے۔

ان نو برسوں کے دوران کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں ہے۔ اس کی ایک مثال ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی غیر معمولی ترقی ہے۔ سڑکوں کا جال بچھانے کے ساتھ ساتھ ریل ٹریک کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ بائیس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی لاگت سے میٹرو کے منصوبے شروع ہیں۔