سعودی عرب میں مرس وائرس سے مزید آٹھ افراد کی ہلاکت

دوسال قبل پھیلنے والے مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 102 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں مہلک وائرس مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم (مرس) سے متاثرہ مزید آٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد مرس سے مرنے والوں کی تعداد ایک سو دو ہوگئی ہے جبکہ وزارت صحت نے دس اور نئے کیسوں کی اطلاع دی ہے۔

وزارت صحت نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ مغربی شہر جدہ میں مرس سے متاثرہ ایک تریسٹھ سالہ خاتون ہفتے کے روز جان کی بازی ہار گئی ہے اور اس بیماری کا شکار ہونے والے ایک اٹھہتر سالہ مرد کا دارالحکومت الریاض میں انتقال ہوا ہے۔ان کے علاوہ چھے اور افراد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔

سعودی عرب میں مرس وائرس قریباً دوسال قبل پھیلا تھا اور اس وقت وہ دنیا میں اس مہلک وائرس سے سب سے متاثرہ ملک بن چکا ہے جہاں تین سو تئیس مریضوں میں اس وائرس کے پائے جانے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

سعودی عرب میں مرس سے ان دوہلاکتوں کی خبر سے ایک روز قبل مصر نے ایک شخص میں اس وائرس کے پائے جانے کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ متاثرہ شخص حال ہی میں الریاض سے لوٹا ہے جہاں وہ بہ سلسلہ روزگار مقیم تھا۔

گذشتہ ہفتے جدہ کے شاہ فہد اسپتال کے چار ڈاکٹروں نے انفیکشن کے خطرے کے پیش نظر مرس سے متاثرہ چار مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کردیا تھا۔اس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے اپنے ماہرین کو سعودی عرب بھیجنے کی پیش کش کی تھی تاکہ وہ اس وائرس کی مریضوں سے معالجین کو منتقلی کے ممکنہ خطرات کی تحقیقات کرسکیں۔

سعودی عرب میں اپریل کے آغاز کے بعد سے مرس سے متاثرہ ستائیس نئے کیسوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ان میں سے سات جدہ اور دو الریاض میں سامنے آئے ہیں۔سعودی عرب کے وزیرصحت عادل فقیہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے الریاض ،جدہ اور دمام میں مرس وائرس کے علاج کے لیے تین اسپتال نامزد کیے ہیں۔ان تینوں اسپتالوں میں ایک سو چھیالیس مریضوں کو انتہائی نگہداست میں رکھا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ مرس کو 2003ء میں ایشیا میں پھوٹنے والے سارس وائرس سے زیادہ مہلک خیال کیا جاتا ہے لیکن یہ اس کے مقابلے میں ایک مریض سے دوسروں میں کم منتقل ہوتا ہے۔یہ مہلک وائرس دوسال قبل مشرق وسطیٰ اور یورپ کے بعض ممالک میں پھیلا تھا اور اس کے نمونوں کے جینیاتی تجزیے کے بعد سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔اس سے سعودی عرب کے علاوہ فرانس ،جرمنی، اٹلی ،تیونس اور برطانیہ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

کرونا وائرس کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا تعلق بھی ایک عشرے قبل پھیلنے والے سارس وائرس کے خاندان سے ہے۔برطانوی اور سعودی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس جانور سے متعدد مرتبہ انسانوں میں منتقل ہوا ہے مگر یہ وبائی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تاہم اس تجزیے سے سائنسدانوں کو یہ پتا نہیں چل سکا تھا کہ یہ مہلک وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں کیسے منتقل ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کے مختلف گروپ اس وائرس کے بکریوں ،بھیڑوں ،کتوں ،بلیوں ،اونٹوں اور دوسرے جانوروں میں پائے جانے کی بھی تحقیقات کررہے ہیں۔بعض سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد تک پھیل سکتا ہے۔تاہم اس کا بآسانی وبائی انسانی بیماری کے طور پر پھیلنا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا ہے۔

مرس یا این کوو یا ناول کورنا وائرس (این کوو) وائرسوں کے اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے جن کے نتیجے میں متاثرہ شخص کو شدید سردی لگتی ہے۔اسی نسل کا سارس (سویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سینڈروم ) وائرس سب سے پہلے 2003ء میں ایشیا بھر میں پھیلا تھا اور اس سے سے دنیا بھر میں آٹھ ہزار افراد متاثر ہوئے تھے۔ان میں دس فی صد یعنی آٹھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں