ملائیشیا: منشیات اسمگلنگ میں ملوث 86 ایرانیوں کو پھانسی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ملائیشیا کی ایک عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث 86 ایرانیوں کو موت کی سزا سنائی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "ایرنا" کے مطابق کوالالمپور میں متعین تہران کے سفیر مرتضیٰ جادوان کا کہنا ہے کہ چھیاسی ایرانی باشندوں کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور کسی بھی وقت سزا پر عمل درآمد ہو سکتا ہے۔

ایرانی سفیر کا مزید کہنا ہے کہ تہران اور کوالالمپور کے درمیان شہریوں کی آمد و رفت کے کڑی نگرانی کے باعث اب ایران سے منشیات کی اسمگلنگ میں غیر معمولی کمی آئی ہے۔ دونوں ملکوں کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ایک دوسرے کے شہریوں کی سخت تلاشی لی جاتی ہے۔

کوالالمپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر مرتضٰی جاودان نے کہا کہ ہمارے ملک سے ملائیشیا میں منشیات کی اسملگنگ میں بہت سے گروہ ملوث رہے ہیں۔ ان میں تاجر، طلباء اور دیگر پیشوں کے لوگ بھی پیش پیش ہیں جس کے باعث ملائیشیا میں ایران کی بدنامی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منشیات اور اس نوعیت کے الزامات کے تحت ملائیشیا میں اب بھی 190 مردوں اور 31 خواتین سمیت 221 ایرانی قید ہیں۔ حال ہی میں ملائیشیا کی ایک عدالت نے چھ خواتین اور 80 مردوں کو منشیات کی اسمگلنگ کی پاداش میں پھانسی کی سزا کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ ملائیشیا کی ایک عدالت نے تین سال قبل بھی دو ایرانی خواتین کو منشیات کی اسملگنگ کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی تھی جس پر تہران نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کوالالمپور سے سزا کے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

ایرانی حکومت کا موقف تھا کہ ملائیشیا کی عدالت کا فیصلہ غیر منصفانہ ہے اور اس پر عمل درآمد سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں ملائیشین وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی اہمیت اپنی جگہ مگر کسی شخص کو غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں