.

امریکا اسی ہفتے روس کیخلاف مزید پابندیاں عاید کرے گا

ہدف اہم روسی شخصیات اور دفاعی صنعت سے متعلق ادارے ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اسی ہفتے روس کیخلاف نئی پابندیاں عاید کرے گا۔ وائٹ ہاوس کے مطابق ان پابندیوں کے ذریعے روسی شخصیات، کمپنیوں کے علاوہ صدر ولادی میر پیوتن کے قریبی رفقاء کا نشانہ بنایا جائے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان مجوزہ نئی پابندیوں میں جدید ٹیکنالوجی سے متعلقہ روسی برآمدات اور روسی دفاعی صنعت سے متعلقہ کمپنیاں شامل ہوں گی، تاکہ ماسکو کو یوکرین کے خلاف اقدامات کی سزا دی جا سکے۔ واضح رہے یوکرین میں روس کے حامی مسلح افراد نے درجنوں سرکاری عمارات اور دفاتر پر قبضہ کر رکھا ہے۔

وائٹ ہاوس کے اس بیان سے پہلے ہفتے کے روز گروپ سیون نے بھی روس کیخلاف مزید پابندیاں عاید کرنے کی منظوری دی ہے۔ جبکہ گروپ سیون کے اجلاس سے پہلے امریکا اور یورپی ملکوں نے روس کو محدود پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا۔

وائٹ ہاوس کے قومی سلامتی کے نائب مشیر ٹونی بلنکن کا کہنا ہے، ہم روسی قیادت کے قریب ترین اور اندرونی حلقے میں شامل شخصیات سمیت اعلی کمپنیوں کو ان پابندیوں کو زد میں لانا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں اقدامات کی تیاری کر رہے ہیں ان پابندیوں کے روسی دفاعی صنعتوں پر بھی مضمرات ہوں گے۔''

دوسری جانب یورپی یونین بھی اسی ہفتے کے دوران روس کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم امریکا اس حوالے سے مقابلتا زیادہ شدت کے ساتھ سوچتا ہے۔ اس بارے میں امریکی صدر اوباما نے رپورٹرز سے بات چیت کے دوران کہا تھا '' ہم اس تناظر میں زیادہ مضبوط پوزیش لینے جا رہے ہیں تاکہ روس کو روک سکیں۔''

ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ روس کی اہم شخصیات پر پابندیاں اب دور کی بات نہیں ہیں۔ سینیٹر باب کروکر نے بتایا '' روس کے چار بڑے بنکوں کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔ ''