.

چین: دنیا کی تیز ترین لفٹ بنانے کا ریکارڈ بنائے گا

''ہٹاچی '' کمپنی کی لفٹ 95 فلور پر 43 سیکنڈ میں پہنچ سکے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گولی اور گولی کی رفتار سے متاثرہ بلٹ ٹرین کو مات دینا ہدف نہیں ہے لیکن چائنا میں ایک جدید ترین لفٹ کی تنصیب سے کسی حد تک رفتار کی روایت شکنی یقینی نظر آ رہی ہے۔ یہ لفٹ ان دنوں زیر تعمیر 95 منزلہ عمارت میں نصب کی جائے گی۔

اس فلک بوس عمارت کی تعمیر امکانی طور پر 2016 میں مکمل ہو گی اور اس کے ساتھ ہی اس میں دنیا کی جدید ترین لفٹ کام شروع کر دیا جائے گا۔ اس تیز رفتار لفٹ بنانے والی ہٹاچی کمپنی کا کہنا ہے کہ لفٹ مکمل طور پر رواں اور آرام دہ ہو گی ۔ اس کا انتہائی تیز رفتار ہونا اس کے محفوظ اور آرام دہ ہونے میں آڑے نہ آئے گا۔

لفٹ عمارت کے پہلے فلور سے پچانویں فلور تک صرف 43 سیکنڈ میں پہنچ سکے گی۔ گویا بلندی کی طرف سیدھا سفر کرتے وقت اس کی رفتار 45 میل فی گھنٹہ تک ہو گی۔ اس سے پہلے نیویارک میں نصب شدہ لفٹوں کی رفتار 15 میل فی گھنٹہ تک ہے۔ چین میں نصب کی جانے والی ہٹاچی کمپنی کی لفٹ کی رفتار ان سے تین گنا زیادہ ہو گی۔

جبکہ دنیا بھر کی بلند عمارات میں استعمال کی جانے والی لفٹس کی رفتار پانچ میل سے 22 میل فی گھنٹہ تک ہوتی ہے۔ تاہم ہٹاچی کا خیال ہے کہ صرف رفتار کا کم یا زیادہ ہونا اصل کمال نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ ان دونوں کے اثرات اور مضمرات پر کنٹرول ہے۔

لفٹ سازی کے شعبے کے ماہر جیمز فارچون کے مطابق اس نے تائیوان کیلیے دو ایسی لفٹس تیار کی ہیں جو وہاں کی 101 نامی عمارت میں نصب کی گئی ہیں۔ یہ دونوں اب تک دنیا کی تیزترین لفٹس ہونے کا ریکارڈ رکھتی ہیں۔

جاپان میں عام طور پر لفٹوں کی رفتار زیرو پوائنٹ آٹھ سے زیرو پرو پوائنٹ نو میٹر تک ہے۔ یہ رفتار امریکا میں زیر استعمال لفٹس سے کم ہے۔ امریکا کی مختلف عمارات میں بروئے کار لفٹس کی رفتار ایک میٹر سے ایک اعشاریہ دو میٹر فی سیکنڈ تک ہے۔

رفتار میں یہ غیر معمولی تبدیلی لفٹ پر اوپر یا نیچے جانے والوں کے کانوں میں اس احساس کی موجب بنے گی کہ جیسے وہ ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہوئے اپنے کانوں میں محسوس کرتے ہیں۔ چین میں 2016 سے بروئے کار آنے والی لفٹ کی رفتار نیچے کی طرف آنے کے دوران 22 میل فی گھنٹہ ہو گی۔


جیمز فارچون کا کہنا ہے کہ'' اونچائی کی طرف یہ تیز رفتاری بجائے خود خطرناک نہیں ہوگی، یہ توکام ہی تیزرفتاری کا ہے۔''