.

ایران:358 مجرمین دیت دینے کے بعد پھانسی سے بچ گئے

سزائے موت پانے والے تین مجرموں کی رہائی کے لیے سات ارب ریال کی رقم جمع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں گذشتہ سال تین سو اٹھاون مجرمین دیت (خون بہا) میں رقم دینے کے بعد پھانسی چڑھنے سے محفوظ رہے تھے۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے پراسیکیوٹر جنرل غلام حسین محسنی اعجئی کے ایک بیان کے حوالے سے سوموار کو اطلاع دی ہے کہ مارچ 2013ء سے مارچ 2014ء کے دوران ایرانی سال میں پھانسی کے منتظر تین سو اٹھاون افراد نے مقتولین کے لواحقین کو خون بہا ادا کردیا تھا جس کے بعد انھیں سولی نہیں چڑھایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اسلامی شریعت کے تحت مقتول کے لواحقین قاتل /قاتلوں کو دیت میں رقم میں لے کر انھیں عدالت کی جانب سے سنائی گئی موت کی سزا کو معاف کرسکتے ہیں لیکن اتنی زیادہ تعداد میں مجرموں کو معافی کے باوجود ایران دنیا بھر میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2014ء کے آغاز کے بعد سے ایک سو ستر افراد کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جاچکا ہے لیکن اس دوران ایرانی میڈیا کی اطلاع کے مطابق بہت سے مجرموں کو خون بہا کی ادائی کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

حال ہی میں ایک ایرانی ماں نے اپنے بیٹے کے قاتل کو تھپڑ رسید کرکے معاف کردیا اور یوں نوجوان قاتل کو تختہ دار پر لٹکنے سے چند لمحے قبل نئی زندگی مل گئی۔بلال نامی اس نوجوان قاتل نے 2007ء میں گلی میں جھگڑے کے دوران اس خاتون کے بیٹے اور اپنے ہم عمر عبداللہ حسین زادے کو چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کردیا تھا۔اس وقت اس قاتل کی عمر انیس سال تھی۔اس کی نوجوانی کے پیش نظر اس کو مقتول کی والدہ سے معافی دلانے کے لیے سرکردہ ایرانی شخصیات نے مہم چلائی تھی۔

ایران کے شمالی شہر نوشہر میں صبح کے وقت مجرم بلال کو پھانسی پر لٹکانے کے لیے مقرر جگہ پر لے جایا گیا تھا اور اس وقت وہاں لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔قاتل کے سر پر پھانسی سے قبل سیاہ نقاب اوڑھا دیا گیا تھا۔وہ ایک کرسی پر کھڑا تھا اور اس کی گردن پر پھندا کسا جانے والا تھا لیکن عین اس وقت مقتول کی والدہ ثمرہ علی نجاد آگے بڑھیں۔انھوں نے قاتل کے منہ پر ایک تھپٹر رسید کیا اور اس کی گردن کے گرد کسا ہوا پھندا کھول دیا۔

اس واقعہ سے تحریک پاکر انسانی حقوق کے کارکنان پھانسی پانے کے منتظر مختلف افراد کی رہائی کے لیے اب چندے کی شکل میں رقوم اکٹھی کررہے ہیں تاکہ انھیں مقتولین کے لواحقین کو ادا کرکے مزید مجرموں کو پھانسی چڑھنے سے بچایا جاسکے۔اس ضمن میں سزائے موت پانے والے تین مجرموں کی رہائی کے لیے سات ارب ریال (دو لاکھ ڈالرز) کی رقم اکٹھی کی گئی ہے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے ایران کے لیے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندہ احمد شہید نے ایرانی حکام سے سزائے موت پانے والی ایک عورت کے کیس کے دوبارہ ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے تا کہ مدعا علیہا کو اپنے دفاع کا پورا پورا حق مل جاسکے کیونکہ ایرانی اور عالمی قانون میں کسی بھی ملزم کو اپنے دفاع کا پورا پورا حق دیا گیا ہے۔

چھبیس سالہ ملزمہ ریحانہ جابری کو ایک ایرانی عدالت نے انٹیلی جنس کے ایک سابق اہلکار کے قتل کے جرم میں قصوار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔اس کیس میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس ملزمہ کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔ یادرہے کہ ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد نافذ قوانین کے تحت قتل ،زنا اور مسلح ڈکیتی سمیت مختلف جرائم کی سزا موت مقرر ہے۔تاہم مقتول کے لواحقین خون بہا کے بدلے میں قاتل کو معاف کرسکتے ہیں۔