.

بیشتر ایرانی مغرب سے جوہری ڈیل کے حامی ہیں:جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ مغرب کے ساتھ اس وقت جوہری معاہدے کا ایک اچھا موقع ہے کیونکہ بیشتر ایرانی اس کی حمایت کررہے ہیں۔

انھوں نے اتوار کو اپنے آسٹروی ہم منصب سیبسٹئیں کرز کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''بعض دھڑے اپنے اپنے مفادات کے پیش نظر جوہری معاہدے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں مگر اصل اہمیت تو ایرانی عوام کے ووٹوں ہی کو حاصل ہوگی''۔انھوں نے ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کردیا ہے کہ سخت گیر جوہری معاہدے کی مخالفت کررہے ہیں۔

جواد ظریف گذشتہ سال جون میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں اعتدال پسند حسن روحانی کی کامیابی کا حوالہ دے رہے تھے جو واضح اکثریت کے ساتھ ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے اور انھوں نے انتخابی مہم کے دوران ایران پر عاید کردہ مغرب کی پابندیوں کو ختم کروانے کا وعدہ کیا تھا۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھائی گئی اس نیوزکانفرنس میں وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ''جناب حسن روحانی ایک مقبول مینڈیٹ کی بنیاد پر اقدامات کررہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ایرانی ایسی کسی بھی ڈیل کو قبول کریں گے اور اس کا احترام کریں گے جس میں ان کے حقوق اور جائز مطالبات کا احترام کیا گیا ہو''۔

واضح رہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی انتظامیہ کے عہدے داروں سمیت سخت گیر ایرانی موجودہ صدر حسن روحانی کی حکومت کے چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ مجوزہ جوہری معاہدے کی مخالفت کررہے ہیں۔انھوں نے حکومت پر امریکا کے آگے جھک جانے کا الزام عاید کیا ہے۔

اس مخالفت کے باوجود ایرانی وزیرخارجہ نے مجوزہ معاہدے کے حوالے سے خوش اُمیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر بات چیت اسی طرح اور اسی انداز میں جاری رہتی ہے تو یہ ڈیل طے پاجائے گی لیکن اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرا فریق بھی باہمی احترام اور خیرسگالی کے تحت بات چیت کے اسی انداز میں تسلسل کو یقینی بنائے''۔

امریکا کے ایک سینیر عہدے دار فرینک روز نے بھی ابوظہبی کے دورے کے موقع پر اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حتمی جوہری معاہدہ طے پا جائے گا۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں 24 نومبر2013ء کو جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور اس کے بدلے میں پابندیوں کے خاتمے سے متعلق چھے ماہ کے لیے عبوری سمجھوتا طے پایا تھا۔اس پر 20 جنوری سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور 20 جولائی کو یہ ختم ہوجائے گا۔اس سے پہلے فریقین کے درمیان مجوزہ معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

ایران کی جانب سے بیس فی صد تک افزودہ یورینیم کے نصف ذخیرے کو ناکارہ بنانا چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کا حصہ تھا۔اس کے بدلے میں امریکا اور یورپی یونین نے ایران پر عاید کردہ اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی ہے اور ماضی میں اس کے منجمد کیے گئے اثاثے بحال کردیے ہیں۔