.

ارب پتی بننا اب صرف چند قدم کی دوری پر!

"تین کام جو آپ کو دولت،عزت اور شہرت دلا سکتے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عزت، دولت اور شہرت کا حصول دور حاضر کے ہر انسان کی لازمی خواہش سمجھا جاتا ہے مگر یہ سب کچھ اتنا آسان بھی نہیں۔ البتہ امریکی جریدے ٹائمز نے اس کا آسان حل بھی بتا دیا ہے۔ ٹائمز کے دعوے کے مطابق دولت کا حصول نہایت آسان ہے اور آپ صرف چند اقدامات کر کے ارب پتی بن سکتے ہیں۔

ٹائمز کی رپورٹ میں ارب پتی بننے کے لیے تین بنیادی کام بتائے گئے ہیں۔ اول یہ کہ اپنا ملک چھوڑ دیں اور ہانگ کانگ چلے جائیں۔ دوسرا یہ کہ وہاں جانے کے بعد کسی بہترین یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کریں۔ اس کے بعد تیسرے مرحلے پر برطانیہ منتقل ہو جائیں جہاں آپ قانون کے اندر رہتے ہوئے کوئی کاروبار شروع کریں۔ برطانیہ کا قانون آپ کو کفالت فراہم کرے گا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کروڑ پتی بن جائیں گے اور آپ کا شمار دنیا کے امیر کبیر افراد میں ہونے لگے گا۔

رپورٹ میں ایسے ہی 1000 افراد کا تذکرہ شامل کیا گیا ہے جنہوں نے یہی اصول اختیار کیے اور آج وہ برطانیہ میں ہیں مگر ارب پتی اور بڑے تاجروں میں شمار ہوتے ہیں۔

جریدہ مزید لکھتا ہے کہ ہانگ کانگ سے اعلیٰ تعلیم کے بعد آپ برطانیہ کے علاوہ کسی دوسرے ملک کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔ مگر وہ ایسا ملک ہونا چاہیے جہاں آپ پر ٹیکسوں کا بوجھ کم سے کم ہو، کاروبار کے لیے شرائط آسان اور قوانین سہل ہوں۔ عوام بالخصوص تاجر پیشہ لوگوں پر کم سے کم ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے والے ممالک کے تعلیمی اداروں سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ نیز "Angloxasion" نظام بھی لوگوں کو ارب پتی بننے کا ماحول فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ دور میں اعلیٰ تعلیم کے اعتبار سے ہانگ کانگ بہترین ملک ہے۔ وہاں کے افاضل دنیا بھر میں کاروبار کر رہے ہیں اور نہایت کامیاب ہیں۔ ہانگ کانگ کا پوری دنیا کے ساتھ دوستی کا رشتہ ہے اور اس کا کوئی دُشمن نہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا سے لوگ وہاں پر کھچے چلے آتے ہیں اور وہ وہاں پر کامیاب بھی ہیں۔ ہر دس لاکھ افراد میں تین کامیاب کاروباری شخصیات صرف ہانگ کانگ میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ کا سفر اور وہاں کی اعلیٰ تعلیم آپ کو بہترین روزگار کے ساتھ روشن مستقبل اور کاروبار کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ اس اعتبار سے ہانگ کانگ کا شمار پہلے نمبر پر ہوتا ہے۔ دوسرے پر اسرائیل ہے، تیسرے پر امریکا، پھر سوئٹزر لینڈ اور سنگاپور آتے ہیں۔

امریکا مغربی یورپ سے بزنس کے اعتبار سے چار گنا اور جاپان سے تین گنا بہتر ملک ہے۔ کاروباری میدان میں برطانیہ کی عالمی شہرت کے باوجود جریدے نے اسے "گیار ہواں" نمبر دیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ امراء پیدا کرنے میں آسٹریلیا کا دسواں جبکہ جرمنی اور فرانس برطانیہ کے بعد آتے ہیں۔ سنہ 1996ء سے 2010ء تک برطانیہ نے 32 ارب پتی پیدا کیے جن میں سے ہرایک کی انفرادی دولت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ بڑے ممالک میں یہ تعداد کوئی زیادہ نہیں۔

پولیٹکل اسٹڈیز سینٹر لندن سے وابستہ تجزیہ نگار ٹینو ساننڈاگے کا کہنا ہے کہ فرانس اور اس جیسے بعض دوسرے ممالک میں موجود ارب پتی لوگوں کی اکثریت"سیلف میڈ" نہیں بلکہ ان کے پاس موروثی دولت ہے، اس لیے برطانیہ فرانس اور جرمنی سے اس میدان آگے ہے کیونکہ یہاں پر زیادہ تر ارب پتی"سیلف میڈ" ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لندن کو مزدوری اور دولت کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے لیکن یہی وہ شہر ہے جہاں پر کیمرج اور آکسفورڈ جیسی عظیم الشان علمی درسگاہیں بھی موجود ہیں، جو لندن کی اہمیت کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔