.

اسرائیل کو نسل پرست ریاست نہیں کہا: جان کیری

سخت رد عمل اور استعفے کے مطالبہ کے بعد وضاحت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنی نجی گفتگو کے دوران اسرائیل کو نسل پرست ریاست کہنے کے الزام کی پر زور انداز میں تر دید کی ہے اور کہا ہے کہ '' اسرائیل ایک متحرک جمہوریہ ہے، مجھے اس پر اعتبار نہیں ہے کہ میں نے کھلے عام یا نجی طور پر اسرائیل کو نسل پرست ریاست قرار دیا ہو، یا ایسا کہنے کا کوئی ارادہ ہی ظاہر کیا ہو۔ ''

امریکا کے اہم ترین سفارتکار کا یہ زوردار بیان اس ہنگامے اور شور کے بعد سامنے آیا ہے جو جان کیری سے استعفے اور معافی کے مطالبے کے حوالے سے جاری ہے۔ جان کیری نے کہا '' میرے بارے میں اگر کوئی جانتا ہے اسے اس طرح کا رتی بھر شک بھی نہیں ہو سکتا کہ میں نے ایسی بات کہی ہو۔''

تاہم جان کیری جنہوں نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سرتوڑ کوشش کی اس کے باوجود ان کی کوششیں دم توڑ گئی ہیں اور ان پر الزام لگا ہے کہ انہوں نے سہ فریقی کمیشن کے ماہرین کے ساتھ جمعہ کے روز بات چیت کے دوران لفظوں کا درست انتخاب نہیں کیا ہے۔

جان کیری نے کہا ''میں نے امریکی سینیٹ میں ایک طویل عرصہ گذارا ہے، اس لیے میں لفظوں کی طاقت کو سمجھتا ہوں، یہ بھی جانتا ہوں کہ لفظوں سے کیا تاثر بنتا ہے، حتی کہ جب غیر ارادی طور پر بھی ادا ہو جائیں۔'' انہوں نے مزید کہا '' اگر میں اپنی تقریر کی ریکارڈنگ سنوں تو یہ واضح ہو جائے گا کہ میں نے اپنے اس پختہ عزم کا اظہار کرنے کیلیے یہ الفاظ منتخب کیے تھے کہ یہودی ریاست اور فلسطینی ریاست کو امن اور سلامتی کے ساتھ رہنا ہو گا۔ ''

اس سلسلے میں ایک آن لائن اخبار نے دعوی کیا ہے کہ جان کیری نے کہا تھا '' یہ ریاستی اکائی اگر نسل پرست ریاست کے طور پر دوسرے درجے کے شہریوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا یہودی ریاست بننے کی صلاحیت کو تباہ کرنے والی ریاست کے طور پر رہنا چاہتی ہے۔''

اس ویب سائیٹ کا کہنا ہے کہ اس نے کیری کی تقریر کی ریکارڈنگ بھی دی ہے جس کی وجہ سے ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور ریپبلکن پارٹی کے سینیٹرز نے وزیر خارجہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ دوسری جانب سینیٹر ٹیڈ کروز کا کہنا ہے '' ہماری قومی سلامتی اور مفادات یا اسرائیل کے ساتھ اتحاد مشکل صورت حال سے دوچار ہو، کیری کو چاہیے کہ وہ صدر اوباما کو اپنا استعفا پیش کر دیں۔ ''

البتہ ریپبلکن پارٹی ہی کے سینیٹر جان مکین استعفے کے مطالبہ پر مسکرا دیے اور کہا ''جان کیری کو وضاحت کرنی چاہیے اور اپنے ایسے الفاظ پر معذرت کرنا چاہیے۔'' جوابا وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے '' میں کسی کو اسرائیل کیساتھ اپنی کمٹمنٹ پر سوال اٹھانے کی اجازت دوں گا، اور نہ ہی کسی کو اس پر سیاست کرنے کی اجازت دوں گا ۔''

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کے رکن کے طور پر اسرائیل کیلیے اپنی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا '' مجھے سینیٹ میں تیس سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، اس دوران صرف زبانی کلامی ہی نہیں عملی طور پر اور ووٹ کے ذریعے بھی ہمیشہ اسرائیل کی حمایت کی ہے اور اس کے لیے جدوجہد کی ہے۔'' لیکن واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہودی ریاست کے تحفظ کیلیے دو ریاستی حل ہی ضروری ہے، جس کیلیے میں نے درحقیقت کام کیا ہے۔ ''