.

مشرق وسطی امن مذاکرات ڈیڈ لائن ختم، پھر تعطل

فلسطینی متحد، اسرائیل ناراض، جان کیری اسرائیلی کٹہرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا مشرق وسطی میں قیام امن کیلیے امن مذاکرات کا خواب اور کوششیں آج 29 اپریل کو ڈیڈ لائن ختم ہونے پر دم توڑ گئی ہیں۔ کئی برسوں کے تعطل کے بعد پچھلے سال ماہ جولائی میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات امریکی نگرانی میں شروع کرائے گئے تھے۔

ان مذاکرات کیلیے دوطرفہ اتفاق کے بعد 29 اپریل 2014 کی ڈیڈ لائن طے پائی تھی۔ تاہم امن مذاکرات کے دوران کئی بار ایسے مواقع آئے کہ تعطل کا خدشہ پیدا ہوتا رہا۔ ان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلیے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے لگ بھگ ایک درجن بار مشرق وسطی کے دورے کیے، کئی بار اسرائیل میں ہی قیام کیا۔ بنجمن نیتن یاہو اور محمود عباس سے ملاقاتیں کیں اور مشرق وسطی میں موجود امریکی سفیر کو بھی اس سلسلے میں متحرک کیا۔

امریکی صدر براک اوباما سے بھی ایک سے زائد مرتبہ نیتن یاہو اور محمود عباس کی ملاقاتیں ہوئیں۔ لیکن ان سب کوششوں کو پچھلے ماہ 29 مارچ کو اس وقت سخت دھچکا لگا جب اسرائیل نے اپنے وعدے کے مطابق 26 فلسطینی اسیران کی چوتھی کھیپ کو رہا کرنے سے اچانک انکار کر دیا۔ اس سے پہلے بھی اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر پر نہ صرف کاربند رہنے پر اصرار کرتا رہا بلکہ مزید یہودی بستیاں بھی تعمیر کرنے کا امن مذاکرات کے دوران بھی اعلان کرتا رہا، یہ چیز فلسطینی نمائندوں کیلیے قابل قبول نہ تھی۔ حتی کہ مغربی ممالک نے بھی اسرائیلی کی اس منطق کو قبول نہ کیا۔

اسرائیل کی طرف سے 29 مارچ کو کھلی وعدہ خلافی کے بعد امریکا نے یہ کوشش بھی کی کہ اپنے ہاں قید ایک اسرائیلی جاسوس پولاڈزکو رہا کر کے اسرائیل کو رام کر لے۔ لیکن اسرائیل نے اپنے رویے میں لچک پیدا نہ کی۔ اس صورتحال میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے مشرق وسطی ہی میں امن مذاکرات کیلیے دونوں طرف کے مذاکرات کاروں کی براہ راست ملاقاتوں کی حوصلہ افزائی کی، تاہم نتیجہ نہ نکل سکا۔

اسرائیل کا اصرار رہا کہ فلسطینی مذاکرات کار ڈیڈ لائن آگے بڑھانے سے اتفاق کریں، جبکہ فلسطینی اتھارٹی نے اس سے انکار جاری رکھا۔ اس عرصے میں امریکی کوشش یہ رہی کہ کسی طرح 29 اپریل تک امریکا کی طرف سے پیش کردہ فریم ورک پر اتفاق ہوجائے۔ اگرچہ ایک سے زائد بار اسرائیلی وزراء نے امریکا اور وزیر خارجہ کیخلاف سخت تنقید کی اور عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

رواں ماہ کے دوران فلسطینی نمائندوں نے اسرائیلی رویے کے بعد اقوام متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی معاہدات کا حصہ بننے کا عندیہ دیا تو اس پر اسرائیل نے اسے امن مذاکرات کے منافی قرار دے دیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے اسی دوران غزہ کی حکمران فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد مفاہمت کرلی۔ ان مذاکرات میں غزہ اور مغربی کنارے مشترکہ مخلوط حکومت بنانے پر اتفاق کر لیا گیا۔

اس غیر معمولی واقعے کے بعد اسرائیل نے اپنے اور فلسطینی مذاکرات کاروں کی سطح پر جاری رابطوں کو منقطع کر دیا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری جو اسرائیلی قیادت کے رویے سے تنگ آئے نظر آتے ہیں۔ ان پر یہ الزام لگا کہ انہوں نے اسرائیل کو ایک نسل پرست ریاست قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

آج یہ صورتحال ہے کہ جان کیری 29 اپریل کو امن مذاکرات کے نتیجے میں مشرق وسطی کیلیے تصفیے کی نوید سنتے یا اپنے تجویز کردہ فریم ورک پر اتفاق کیلیے فریقین کے آمادہ ہونے کی خبر عالمی برادری کو سناتے وہ خود اسرائیل اور اس کے حامیوں کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ مشرق وسطی کے مستقبل کیلیے امن مذاکرات کا امریکی فارمولہ آئندہ کب بروئے کار آسکے گا فی الحال کہنا مشکل ہے۔