.

مصر جمہوریت پسند ہونے کا ثبوت دے:امریکا

عدالتی عمل کے ذریعے پریشان کن فیصلے کیے جارہے ہیں:جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عرب دنیا کے سب سے بڑے ملک میں جمہوریت لانے کے لیے اپنے سنجیدہ ہونے کا ثبوت دے ۔

انھوں نے یہ مطالبہ مصری وزیرخارجہ نبیل فہمی سے واشنگٹن میں منگل کو ایک ملاقات میں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم سب جانتے ہیں کہ عدالتی عمل کے ذریعے پریشان کن فیصلے کیے جارہے ہیں''۔ان کا اشارہ حال ہی میں مصری عدالتوں کی طرف سے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی اخوان المسلمون کے سیکڑوں کارکنان کو سنائی گئی موت کی سزاؤں کی جانب تھا۔

جان کیری نے کہا کہ ''مصر واضح طور پر تبدیلی کے ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔ہم عبوری حکومت کی کامیابی چاہتے ہیں۔ہم تمام دھڑوں کی شمولیت پر مشتمل سیاسی عمل اور آئین پر عمل درآمد چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں لوگ سیاسی طور پر ایک میز پر اکٹھے ہوں اور جمہوری بنیاد وسیع ترہو''۔

جان کیری نے اپنے مصری ہم منصب کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی فیصلوں سے پیدا ہونے والے سنجیدہ چیلنجز پر دوٹوک انداز میں بات کریں گے تاکہ مصر میں جمہوریت کے نفاذ کو یقینی بنایا جاسکے اور مصر دوبارہ دنیا کے منظرنامے پر ابھر کر سامنے آئے۔

واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ نے گذشتہ ہفتے مصر کو دی جانے والی سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد کو جزوی طور پرغیر منجمد کردیا تھا اور اس کو بدامنی کا شکار جزیرہ نما سینا میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے دس اپاچی ہیلی کاپٹر اور 65 کروڑ ڈالرز نقدی کی شکل میں دینے کا اعلان کیا تھا۔البتہ اس نے باقی امدادی رقم مصر میں جمہوریت کی بحالی تک روک لی ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ ''ہم مصر میں بہت سے امور کے رونما ہونے کے منتظر ہیں جس سے لوگوں میں کچھ اعتماد پیدا ہوگا۔یہ الفاظ نہیں بلکہ عملی اقدامات ہیں جن کے نتیجے میں فرق واضح ہوتا ہے''۔

امریکی وزیرخارجہ کے ان سخت کلمات کے جواب میں نبیل فہمی کا کہنا تھا کہ مصر کی عدالتیں آزاد ہیں اور حکومت عدالتی عمل میں مداخلت نہیں کرسکتی ہے۔تاہم انھوں نے پیشین گوئی کہ جب یہ عمل مکمل ہوجائے گا تو پھر ہم ان میں سے ہر کیس کے بارے میں مناسب فیصلے کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ''میں یہاں ان لوگوں کی نمائندگی کررہا ہوں جو جمہوریت چاہتے ہیں اور جو اپنے مستقبل میں ایک فریق کی حیثیت رکھتے ہیں''۔ان کا کہنا تھا کہ مصر میں تبدیلی کا عمل معاشرتی سطح پر رونما ہورہا ہے اور یہ محض ایک صدر کی دوسرے صدر سے تبدیلی نہیں ہے۔

مصری وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ''ہم قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر جمہوریت قائم کریں گے اور قانون کی حکمرانی سے یہ مراد ہے کہ آئین سے مطابقت رکھنے والے قوانین کا نفاذ کیا جائے گا''۔انھوں نے باور کرایا کہ وہ یہ وعدہ یہاں واشنگٹن ہی میں نہیں کررہے ہیں بلکہ اپنے عوام سے بھی وعدہ کررہے ہیں۔