.

طرابلس:پارلیمان کی عمارت پر حملہ،متعدد زخمی

لیبیا کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے وقت مسلح افراد عمارت میں گھس آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں نامعلوم مسلح افراد نے جنرل نیشنل کانگریس (پارلیمان) کی عمارت پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں اور نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے رائے شماری کو موخر کردیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے منگل کی شام پارلیمان کی عمارت میں گھس کر فائرنگ کی ہے۔اس وقت نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے رائے شماری ہورہی تھی۔پارلیمان کے ترجمان عمر حمیدان نے فائرنگ سے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ حملہ آوروں کا تعلق ایک شکست خوردہ امیدوار سے تھا۔تاہم انھوں نے اس امیدوار کا نام نہیں بتایا۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے بعد ارکان پارلیمان جانیں بچانے کے لیےعمارت سے بھاگ گئے تھے۔مسلح افراد کے اس حملے کا دورانیہ بہت مختصر رہا ہے لیکن اس کے نتیجے میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے رائے شماری کو آیندہ ہفتے تک موخر کردیا گیا ہے۔

ترجمان عمر حمیدان نے بتایا ہے کہ جنرل کانگریس کے ارکان مستعفی وزیراعظم عبداللہ الثنی کی جگہ نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے تھے۔اس عہدے کے لیے سات امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا اور پہلے مرحلے میں کاروباری شخصیت احمد میطیق سرفہرست رہے تھے۔

دوسرے مرحلے میں احمد میتیق اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار عمرالحاسی کے درمیان مقابلہ تھا اور ان میں سے کسی ایک کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالنے کی تیاری کی جارہی تھی کہ اس دوران مسلح افراد اسمبلی کی عمارت میں گھس آئے اور انھوں نے فائرنگ شروع کردی۔

واضح رہے کہ لیبیا کے بیشتر علاقوں میں 2011ء میں سابق صدر معمرقذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بدامنی اور لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔طرابلس ،بن غازی اور دوسرے شہروں میں مسلح جنگجو دندناتے پھررہے ہیں مگر لیبی حکومت ان مسلح گروپوں پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔مسلح افراد قبل ازیں بھی متعدد مرتبہ پارلیمان کی عمارت پر حملہ آور ہوچکے ہیں۔

لیبیا کے مشرقی علاقوں میں خاص طور پر مرکزی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور سخت گیر اسلامی جنگجوؤں نے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔ وہ اسلحے کی نوک پر اپنے مطالبات منواتے ہیں اور سرکاری اداروں کو بھی اںھوں نے اپنے زیرنگیں رکھا ہوا ہے۔

خانہ جنگی کا شکار ملک کے مشرقی علاقوں میں طوائف الملوکی کے پیش نظر مغربی سفارت کار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ مشرقی شہر درنۃ خاص طور پر غیرملکی اور مقامی اسلامی جنگجوؤں کی آماج گاہ بنتا جارہا ہے جو وہاں سے شام یا مصر کا رُخ کررہے ہیں۔