مرس: سعودی شہریوں کو اونٹوں سے دور رہنے کی ہدایت

قائم مقام وزیر صحت کی عالمی ماہرین صحت سے مشاورت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے قائم مقام وزیر صحت عادل بن محمد فقیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اونٹ سے بنی مصنوعات اور اشیاء کے استعمال سے دور رہیں ۔ عادل بن محمد فقیہ کے مطابق ماہرین صحت نے کہا ہے عربوں کی روایتی اور پسندیدہ سواری اونٹ عرب دنیا میں پھیلی بیماری '' مرس'' کے انڈوں بچوں کی آغوش بن سکتے ہیں۔

قائم مقام وزیر صحت نے سعودی مملکت کے باشندوں کو یہ ہدایت صحت کے عالمی ادارے، غیر ملکی ماہرین صحت اور ملک کے ممتاز اطباء کے ساتھ مشاورت کے بعد کی ہے۔ ماہرین کے ساتھ سعودی زعماء کی مشاورت کا یہ عمل پچھلے دو دن جاری رہا ہے۔

وزیر صحت کے مطابق دنیا بھر سے آئے ماہرین کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران اتفاق پایا گیا ہے کہ شہریوں کو ''مرس ''کی وبا سے بچنے کیلیے اونٹوں سے خود کو دور رکھنا چاہیے، بالخصوص بیمار اونٹوں کے قریب جانے سے احتراز برتیں۔

وزیر صحت کا کہنا تھا حکومت نے ایک جانب دنیا بھر کے بہترین ماہرین کی خدمات حاصل کیں اور انہیں مشورے کیلیے اپنے ہاں بلایا تاکہ شہریوں کو'' مرس'' کی وبا سے محفوظ رکھنے کیلیے ہر ممکن اقدامات کیے جا سکیں کہ اب تک 100 شہری اس کی وجہ سے جان بحق ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اونٹ کے کچے اور پکے گوشت سے دور رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا '' اس سلسلے میں شہریوں میں آگاہی عام کرنے کیلیے جلد ایک مہم بھی شروع کی جا رہی ہے، لیکن یہ ابھی سے کہا جا رہا ہے بیمار اونٹوں کے قریب ہر گز نہ جایا جائے۔

ایسے لوگ جو اونٹوں کو خوراک دینے یا ان کے علاج معالجے کی ذمہ داریوں سے منسلک ہوں ، انہیں چاہیے کہ وہ اونٹوں کے قریب جانے سے پہلے ناک کو ڈھانپ لیں اور اپنے ہاتھوں پر دستانے چڑھا لیں۔ واضح رہے شرق اوسط کے ملکوں کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور مصر میں بھی ''مرس'' سے متاثرہ افراد کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کی ایک ہفتہ پہلے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اب تک ''مرس ''سے متاثرہ افراد کے 345 کیس سامنے آئے ہیں جبکہ ایک سو کے قریب اموات ہو چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں