.

امریکی پابندیاں: ارب پتی روسی پیزا خریدنے سے بھی عاری!

یوکرین پر روسی قبضے کے بعد عائد کردہ پابندیوں نے اثر دکھانا شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور یورپ کی جانب سے روس کے یوکرین پر قبضے کی پاداش میں عائد اقتصادی پابندیوں کا ماسکو پر کوئی منفی اثر پڑا ہے یا نہیں اس کا عقدہ تو ابھی کھلنا باقی ہے۔ لیکن یہ امر طے ہے کہ ان اقتصادی پابندیوں کے عام لوگوں کی زندگیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ان پابندیوں کے نتیجے میں روسی شہری کئی دوسرے ملکوں میں اپنے ڈیبٹ اور کریڈیٹ کارڈز استعمال نہیں کر سکتے۔ یہ کارڈ مشین میں ڈالتے ہی سامنے "معذرت! آپ کا کارڈ مسترد کر دیا گیا ہے"۔ کا پیغام صارف کا منہ چڑانے لگتا ہے۔ اس کیفیت نے روسی شہریوں کو یورپ، امریکا اور بعض دوسرے ممالک میں سنگین نوعیت کی مشکلات سے دوچار کیا ہے کیونکہ وہ نا تو بنکوں سے 'اے ٹیم ایم' کے ذریعے رقم نکوا سکتے ہیں اور نہ ہی کریڈٹ کارڈز کے ذریعے کوئی چیز خرید سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی اقتصادی پابندیوں سے متاثرہ روسی شہریوں میں 53 سالہ ایگور سیکین بھی شامل ہیں جو اپنے کریڈٹ کارڈ کی مدد سے کسی بیکری سے ایک پیزا بھی نہیں خرید سکتے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے ملک میں ارب پتی اور روسی قدرتی تیل کی کل پیدوارار کے 40 فی صد حصے کے مالک ہیں۔ امریکا نے پابندیوں کی فہرست میں مسٹر سیکین کو بھی شامل کر رکھا ہے۔ اس لیے ان کا بیرون ملک سفر کرنا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ ماسکو کے خلاف نئی پابندیوں کی ایک فہرست مرتب کر رہا ہے جس کا اعلان ایک ہفتے میں ہو جائے گا۔ قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے روس کی 17 بڑی کمپنیوں اور 67 اہم شخصیات کے بیرون ملک اثاثے منجمد کر دیے تھے۔ اب چونکہ روسی بنکنگ سسٹم، گیس اور تیل کی درآمدات وبرآمدات پر بھی پابندی عائد ہے۔ اس لیے ان پابندیوں کی وجہ سے لاکھوں روسی براہ راست متاثر ہوں گے۔

رپورٹس کے مطابق روس کے مرکزی بنک کے خلاف پابندیوں کے بعد شہریوں کو اپنے ملک کے اندر بھی رقم کے لین دین میں سنگین مشکلات درپیش ہوں گی کیونکہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ان کے "ویزا کارڈ" اور "ماسٹر کارڈز" بھی جامد کر دیے جائیں گے۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ روسی شہری پچھلے ایک عشرے سے کریڈٹ کارڈز، اے اٹی ایم کارڈز، ماسٹر کارڈز اور ویزا کارڈز جیسی سہولیات سے استفادہ کے عادی ہو گئے تھے۔

ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ارب پتی ایگور سیکین پر پابندیوں کے ذریعے امریکی حکومت نے صدر ولادی میر پوتین کو دو سبق دینے کی کوشش کی ہے۔ اول: یہ کہ امریکا کسی بھی روسی شخصیت کا عالمی سطح پر لین دین بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوم: یہ کہ روسی صدر کو اندازہ ہونا چاہیے کہ امریکیوں کو اس بات کا بہ خوبی علم ہے کہ صدر پوتین کے مقربین خاص میں کون کون لوگ شامل ہیں اور انہیں اقتصادی پابندیوں میں کس طرح جکڑا جا سکتا ہے۔ دوسرے معنوں میں صدر پوتین اپنے مقربین کو بھی ان پابندیوں کے منفی اثرات سے بچانے میں بھی بری طرح ناکام رہے ہیں۔