.

ترکی: مظاہرین کو تقسیم اسکوئر پہنچنے سے روک دیا گیا

اہم تجارتی مرکز میں مظاہرہ کرنے پر پابندی عاید ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک پولیس نے مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر مزدوروں کیخلاف آنسو گیس اور تیز دھار سے گرنے والا پانی پھینک کر انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔ تفصیلات کے مطابق ترک پولیس نے یہ اقدام سینکڑوں مزدوروں کی ریلیوں پر پابندی کی خلاف ورزی پر مبنی ریلیوں کا انعقاد روکنے کیلیے کیا ہے۔

یہ واقعہ استنبول کے مرکزی تقسیم اسکوئر پر پیش آیا جو پچھلی گرمیوں کے دوران کئی ہفتوں تک احتجاج کا مرکز بنا رہا تھا۔ امن و امان کو لاحق خطرے کے پیش نظر پولیس نے شہر کے کئی حصوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کیلیے بھی بند کر دیا تھا اور ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے تھے۔

واضح رہے مزدور یونینز کی ریلی کا روایتی مرکز تقسیم اسکوئر ہوٹلوں اور مارکیٹوں کا بھی مرکز ہے۔ اس جانب بڑھنے والے پرچم اٹھائے مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کی قطاربندی کو توڑنے کی کوشش کی، مظاہرین نے پتھراو کرنے کے علاوہ پولیس پر آگ بھڑکانے والا مواد بھی پھینکا۔

وزیر اعظم طیب ایردوآن نے ایک ہفتہ پہلے ہی یونینوں کو تقسیم اسکوئر پر مظاہرے نہ کرنے دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ حکومت نے ان مظاہرین کو شہر سے باہر مضافات میں جمع ہو کر اپنا موقف پیش کرنے کیلیے کہا تھا۔ لیکن مزدور یونین نے حکومت کی یہ تجویز ماننے سے انکار کر دیا۔

مزدوروں نے اعلان کیا تھا کہ وہ حکومت کی طرف سے تقسیم اسکوئر پر مظاہروں پر عاید پابندیوں کے باوجود اس خاص چوک پر مظاہرہ کریں گے۔ اس وجہ سے سادہ کپڑوں میں پولیس نے یکم مئی کو صبح سویرے ہی تقسیم اسکوئر کی مارکیٹوں میں اپنی موجودگی یقینی بنا لی تھی۔ پولیس نے صرف سیاحوں کو اس علاقے میں اجازت دے رکھی تھی۔