دہشتگردی کا چہرہ تبدیل ہو رہا ہے: امریکی رپورٹ

شام میں نئے دہشت گرد ابھر رہے ہیں، پاکستانی ٹھکانے برقرار: کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دہشت گردی کیخلاف نائن الیون کے بعد سے جاری امریکی اور اتحادیوں کی جنگ کے باوجود امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دفتر خارجہ کی مرتب کردہ رپورٹ کانگریس کو پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا چہرہ تبدیل ہو رہا ہے اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں زیادہ تشدد کی طرف مائل ہیں ، جبکہ شام کی وجہ دہشت گردوں کی ایک نئی نسل سامنے آ رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے بالواسطہ طور پر دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ اور حکمت عملی کے کامیاب نہ ہو سکنے کا اشارہ ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب اسی سال افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء ہونے والا ہے۔ جان کیری نے تحریک طالبان اور لشکر جھنگوی کے بارے میں پاکستانی فوج کی جاری مہم کے باوجود اس امر کا حوالہ دیا ہے کہ القاعدہ کے تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات ہیں نیز طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو اب بھی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ انہوں نے ان کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں کے بارے میں بھی عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔

جان کیری نے اپنی اس رپورٹ میں شام سے نکلنے والی دہشت گردوں کی نئی کھیپ اور پاکستان میں مبینہ دہشت گرد گروپوں کیلیے براہ راست یا بالواسطہ نرمی کا حوالہ دیا اور کہا'' پاکستان میں لشکر طیبہ کھلے عام تربیتی کیمپ چلاتی ہے اور ریلیوں کا انعقاد کرتی ہے۔ '' ان کا مزید کہنا تھا '' لشکر طیبہ پاکستان میں اب بھی پیسہ اکٹھا کرتی، اسے یورپ ، خلیج اور مشرق وسطی کے ممالک سے بھی امداد ملتی ہے۔''

امریکی وزیر خارجہ نے دہشت گردی میں ملوث تنظیموں پر عاید کی گئی پابندیوں کے بعد پاکستان میں ان کے خلاف کارروائیوں کو سست روی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں اس سلسلے میں کی جانے والی قانون سازی کے باوجود نشان دہی کی گئی ہے کہ عدالتوں سے دہشت گرد چھوٹ جاتے ہیں اور عدالتوں میں دہشت گردی کے خلاف گواہوں، پولیس اہلکاروں اور وکلاء اور ججوں کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دہشت گردی کے تبدیل ہوتے چہرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا '' اب القاعدہ کی سنٹرل کمانڈ کی گرفت اس سے منسلک گروپوں پر کمزور ہو رہی ہے۔ یہ گروپ القاعدہ کے سر براہ ایمن الظواہری کے احکامات بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں