یمنی فوج کے ساتھ جھڑپ میں القاعدہ کے لیڈر سمیت 7 ہلاک

جنوبی صوبوں ابین اور شیبوۃ کے دیہات اور قصبوں میں القاعدہ کے خلاف کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے دو جنوبی صوبوں میں فوج کی جزیر نما عرب میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کے دوران اس تنظیم کے ایک سرکردہ لیڈر ابو مسلم الازبکی سمیت سات جنگجو مارے گئے ہیں۔

یمنی وزارت دفاع کی نیوز ویب سائٹ 26 ستمبر ڈاٹ نیٹ نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ فوج نے جنوبی صوبے شیبوہ کے دو قصبوں میفع اور اذان میں بدھ کی رات القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

فوج کی کارروائی میں تین گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں اور ان میں سوار تمام جنگجو مارے گئے ہیں۔ان دونوں قصبوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ فوج اور جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے۔

یمنی فوج نے دو جنوبی صوبوں شیبوۃ اور ابین کے چھوٹے قصبوں اور دیہات میں القاعدہ کے بچے کچھے جنگجوؤں کے خلاف منگل کو ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی لیکن اس کارروائی کے آغاز ہی میں فوج کو اس وقت جانی نقصان اٹھانا پڑا جب القاعدہ کے ایک حملے میں پندرہ فوجی مارے گئے اور پندرہ کو انھوں نے یرغمال بنا لیا۔بعد میں انھوں نے یرغمالیوں میں سے تین کو قتل کردیا تھا۔

گذشتہ تین روز کے دوران فوج اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں اکیس فوجی اور اکیس مشتبہ جنگجو مارے گئے ہیں۔یمنی فوج کو امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے اور وہ القاعدہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کررہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی سی آئی اے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے یمن میں مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر 2012ء سے میزائل حملے کررہی ہے لیکن امریکا نے سرکاری طور پر کبھی ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی اور نہ یمنی حکومت کی جانب سے ان حملوں کے خلاف کوئی احتجاجی بیان سامنے آیا ہے بلکہ امریکا کو القاعدہ کے جنگجوؤں کی بیخ کنی کے لیے یمن کی درپردہ حمایت حاصل ہے اور عوامی غیظ وغضب سے بچنے کے لیے سرکاری طور پر ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی جاتی ہے۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سےوابستہ جنگجوؤں نے گذشتہ مہینوں کے دوران یمن کے جنوبی صوبوں میں تیل کی تنصیبات ،سکیورٹی فورسز اور غیر ملکیوں پر بیسیوں حملے کیے ہیں۔ امریکا القاعدہ کی اس تنظیم کو سب سے خطرناک جنگجو گروپ قراردیتا ہے۔

اس تنظیم کے جنگجوؤں نے 2011ء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مرکزی حکومت کی اقتدار پر گرفت ڈھیلی پڑںے کے بعد جنوبی صوبے ابین میں اپنی عمل داری قائم کرلی تھی۔تاہم بعد میں یمنی سکیورٹی فورسز نے القاعدہ کوابین اور دوسرے جنوبی علاقوں سے نکال باہر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں