.

آسٹریلوی انتہا پسند کا اسلام کے خلاف 'اعلان جنگ'

ممتاز علماء کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا میں ایک مذہبی انتہا پسند گروپ نے ملک بھر میں موجود مسلمانوں کے نمائندہ رہ نماؤں اور اسلام کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ انتہا پسندوں کی جانب سے اسلام کے خلاف اعلان جنگ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پارلیمنٹ ملک میں موجود اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مروجہ قوانین میں ترامیم کر رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانیہ میں سرگرم انگلش ڈیفنس لیگ کی طرز پر اس گروپ نے آسٹریلین ڈیفنس لیگ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور اسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے یو ٹیوب پر ایک دھمکی آمیز فوٹیج پوسٹ کی گئی ہے۔ ویڈیو بیان میں آسٹریلوی علماء کونسل کے سینیئر رکن اور ترجمان الشیخ محمد سلیم، سابق مفتی اعظم تاج الدین الہلالی، آسٹریلیا مسلم فرینڈشپ آرگنائزیشن کے چیئرمین اور سماجی رہ نما قیصر طراد، سرکردہ علماء محمد ناجی اور فائز محمد کو قتل کی دھمکی دیتے ہوئے صاف الفاظ میں اسلام کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انتہا پسند گروپ پچھلے کئی ہفتوں سے آسٹریلوی معاشرے میں سرگرم عمل ہے۔ اسی گروپ کی امن مخالف سرگرمیوں کے بعد ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ پارلیمنٹ نے آئین کی دفعہ 18 میں ترامیم کے لیے تجاویز طلب کی ہیں اور ملک کے اعتدال پسند حلقوں کی جانب سے اقلیتیوں کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شدت پسند گروپ آسٹریلین ڈیفنس لیگ کا سربراہ اطالوی نژاد رالف سرمنارہ نامی ایک سابق فوجی افسر ہے، جس نے سوشل میڈیا پر ملک میں موجود اہم مساجد اور مدارس کی تصاویر بھی پوسٹ کرتے ہوئے ان پر نامناسب الفاظ میں تبصرے کیے ہیں۔

آسٹریلوی ٹی وی آئی بی سی کے مطابق انتہا پسند گروپ کے ایک دوسرے رکن نائتھن ابیلا نے آسڑیلیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے مدرسے کی تصاویر کے ساتھ ایک محجب مسلمان خاتون کی ریل میں سفر کے دوران لی گئی تصاویر بھی انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہیں۔ نائتھن کا دعویٰ ہے کہ اسے مسلمانوں سے خطرہ ہے۔ اس کی رہائش گاہ پر نامعلوم افراد نے متعدد مرتبہ فائرنگ کی ہے، اسے شبہ ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں مسلمان ہی ملوث ہو سکتے ہیں۔

ادھر جس مسلمان خاتون کی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔ اس نے ریل گاڑی میں سفر کرنا اور ملازمت دونوں ترک کر دیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے میری جان اور عزت دونوں کا خطرہ ہے۔ جس کے پیش نظر میں ملازمت جاری نہیں رکھ سکتی۔

آسٹریلیا میں انتہا پسند گروپ کے منظر عام پر آنے بعد سیکیورٹی اداروں نے مسلمان رہ نماؤں اور مساجد کی سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور ساتھ ہی مسلمان شہریوں سے کہا ہے کہ وہ خود بھی اپنے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں اور بلا ضرورت پبلک مقامات پر جانے سے گریز کریں۔

سابق مفتی کی مذاکرات کی دعوت

انتہا پسند گروپ کی جانب سے دھمکی آمیز بیان سامنے آنے کے بعد آسٹریلیا میں مسلمانوں کے سابق مفتی اعظم الشیخ تاج الدین الہلالی نے شدت پسندوں کو کھانے پر مدعو کیا ہے اور ان سے کہا کہ بندوق کے بجائے میز پر بیٹھ پر اپنے تحفظات پر بات کریں۔ علامہ الہلالی کا کہنا ہے کہ آسٹریلین ڈیفنس لیگ کو اسلام کی جن تعلیمات سے خوف لاحق ہے ان کے بارے میں جان کاری کا انہیں حق حاصل ہے اور ہم ان کے تحفظات دور کریں گے۔

آسٹریلیا مسلم فرینڈشپ آرگنائزیشن کے چیئرمین قیصر طراد کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ اسلام کے خلاف اشتعال انگیزی کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم خوفزدہ ہر گز نہیں ہوں گے کیونکہ ہم سے کسی کو نقصان پہنچنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے لیکن ہم کسی کو اسلام کی مخالفت کی آڑ میں انتہا پسندی پھیلانے کا موقع بھی ہر گز نہیں دیں گے۔ اسلام کو بدنام کرنے آسٹریلیا کا اعتدال پسند چہرہ مسخ ہو گا۔ اس لیے میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ انتہا پسندی پر یقین رکھنے والے عناصر کو خود قابو کرے۔

انہوں نے کہا کہ انتہا پسند ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ اقلیتوں کے خلاف برتے جانے والے امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے قوانین میں ترامیم کر رہی ہے۔ مساجد، مدارس اور باپردہ مسلمان خواتین کی تصاویروں کی انٹرنیٹ پر تشہیر اور دھمکی آمیز بیانات مسلمانوں اور دیگر تمام اقلیتوں کے ساتھ نسل پرستانہ سلوک جاری رکھنے کی سازش ہیں۔