.

بان کی مون کے بشار رجیم سے رابطے منقطع

بشار الاسد اپنے وعدوں کا پاس نہیں کرتے: بان کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ انہوں نے شام کے صدر بشارالاسد کی طرف سے وعدے پورے نہ ہوے کی وجہ سے اس کے ساتھ براہ راست رابطے منقطع کر دیے ہیں۔

'' العربیہ'' کے نیویارک میں بیورو چیف طلال الحاج کے ساتھ ایک انٹرویو میں بان کی مون نے کہا '' میں نے شام میں اپنے نمائندے کو شامی حکومت کے ساتھ رابطہ رکھنے کی ذمہ داری دی ہے، اس سے پہلے جب ابھی شامی تنازعہ کی ابتدا تھی تو متعدد بار رابطہ کیا، لیکن جب میں نے محسوس کیا کہ وہ اپنی بات پر پکے نہیں رہتے تو میں نے رابطوں کو غیر مفید سمجھتے ہوئے ختم کر دیا۔ ''

بان کی مون نے کہا '' میں شامی حکومت سے رابطوں کیلیے اپنے خصوصی نمائندے کو بروئے کار لاتا ہوں۔'' انہوں نے مزید کہا '' الاحضر ابراہیمی علاقے کے حکومتی و سیاسی کھلاڑیوں کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں، اس لیے شام کی صورت حال کے بارے میں تشویش رکھنے کے باوجود اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ ''

شام میں خانہ جنگی کو تین سال ہو چکے ہیں میں اب تک ایک لاکھ پچاس ہزار لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ لاکھوں کی تعداد میں دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود شامی حکومت نے پچھلے ماہ کے اواخر میں صدارتی انتخاب کا اعلان کیا ہے۔

اس اعلان کے بعد عالمی برادری کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ شام کی متحدہ اپوزیشن نے بھی 3 جون کے متوقع صدارتی انتخاب کو مسترد کر دیا ہے۔