سری لنکا: مسلمان ارکان پارلیمنٹ کی بدھ مظالم کیخلاف اپیل

سولہ ارکان نے مشترکہ طور پر صدر کو خط لکھ کو مدد مانگی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سری لنکن پارلیمنٹ کے مسلمان نمائندوں نے بدھ مت کے انتہا پسندوں سے مسلمانوں کو لاحق خطرات اور نفرت آمیز سلوک کے پیش نظر صدر مہندا راجا پاکسی سے مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

مسلمانوں کے مختلف گروپوں کی مشترکہ تنظیم مسلم کونسل برائے سری لنکا کے مطابق پارلیمنٹ کے 18 مسلم ارکان میں سے 16 نے سری لنکن صدر سے مطابہ کیا ہے بدھوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم کو رکوانے کیلیے مداخلت کریں۔

مسلم ارکان پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں تحریر کردہ ایک خط میں لکھا ہے کہ '' ہم آپ کی مشفقانہ توجہ چاہتے ہیں تاکہ بدھ انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کیخلاف دہشت انگیز فضا کو روکا جا سکے۔'' یہ خط پیر کے روز بدھ انتہا پسندوں کی طرف سے مساجد اور گرجا گھروں کیخلاف کارروائیوں کی تحقیقات کیلیے بنائے گئے ایک نئے تحقیقاتی یونٹ کی تشکیل کے بعد لکھا گیا ہے۔

بدھوں کو اعتراض ہے کہ سری لنکا کی مذہبی اقلیتوں کو ان کے حق سے زیادہ معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ حاصل ہے جو قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے۔ اس وجہ سے بدھوں نے مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف کارروائیوں میں ان کی مساجد اور گرجا گھروں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ بدھ پتھراو کرتے ہوئے آرہے ہیں اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچا ہے ہیں۔

واضح رہے سری لنکا تقریبا چار دہائیوں کی نسل پرستی کی جنگ کے دوران ایک لاکھ انسانی جانوں کا نقصان برداشت کر چکا ہے۔ سری لنکا کی 20 ملین آبادی کا 70 فیصد بدھوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ بدھوں کے بعد سب سے بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے۔ پچھلے سال ہونے والے فسادات کے بعد اپوزیشن نے الزام لگا یا تھا کہ ان کے پیچھے حکومتی ہاتھ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں