.

شام میں غیرملکی جنگجوؤں کی آمد میں اضافہ:ایف بی آئی

معدودے چند امریکی جنگجو دوسروں کو جہاد کے لیے شام آنے پرآمادہ کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وفاقی ادارہ تحقیقات (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر جیمز کومے نے کہا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران غیرملکی جنگجوؤں کی خانہ جنگی کا شکار شام میں آمد میں نمایاں اضافہ ہواہے اور دسیوں امریکی ہزاروں یورپیوں کے ساتھ مل کر وہاں لڑائی میں شریک ہیں۔

مسٹر کومے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے سفر پر جانے والے یا ایسا ارادہ رکھنے والے امریکیوں کی تعداد رواں سال کے آغاز کے بعد سے چند درجن سے بڑھ چکی ہے۔ان کے بہ قول شام میں ایسے امریکی بھی موجود ہیں جو دوسرے کو وہاں آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایف بی آئی کے سربراہ نے شام کی صورت حال کا افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کے زمانے سے موازنہ کیا ہے جب 1980ء سے 1990ء کے دس سال کے عرصے کے دوران دنیا بھر سے ہزاروں کی تعداد میں مسلمان جہاد میں شرکت کے لیے افغانستان پہنچے تھے اور پھر وہاں سے واپسی کے بعد انھوں نے اپنے آبائی ممالک میں اتھل پتھل کی کوشش کی تھی اور جہاں وہ تعداد میں زیادہ تھے ،وہاں انھوں نے حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے سازشوں سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ شام میں 1980ء اور 1990ء کے عشرے کے افغانستان سے بھی زیادہ صورت حال خراب ہے کیونکہ غیرملکی جنگجو وہاں بڑی تعداد میں جارہے ہیں لیکن ان کے بہ قول:''آج ہم شام سے لکیر کھینچنے کی اجازت نہیں دیں گے تاکہ مستقبل میں نائن الیون ایسا کوئی سانحہ رونما نہ ہو''۔

وہ امریکا پر 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کا حوالہ دے رہے تھے۔نیویارک اور واشنگٹن میں طیارہ حملوں میں ملوث القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے جنگ زدہ افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی تربیت حاصل کی تھی۔

اب امریکا مستقبل میں ایسے کسی امکانی منظر نامے سے بچنے کے لیے صدر بشارالاسد کی اپنے ہی عوام کے خلاف سفاکانہ کارروائیوں کے ردعمل میں کوئی اقدام نہیں کررہا ہے اور وہ ان کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجو گروپوں کی کھل کر امداد سے بھی گریزاں ہے۔

امریکا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عہدے دار شام میں صدر بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے سخت گیر جہادیوں کے اثرونفوذ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ان میں سے بہت سے جہادی القاعدہ سے وابستہ ہوچکے ہیں۔ان حکام کا کہنا ہے کہ شامی تنازعے میں شرکت کے خواہاں امریکا اور یورپ سے تعلق رکھنے والے جنگجو سخت گیر بن سکتے ہیں اور وہ اپنے گھروں کو واپسی کے بعد ان اثرات کو درآمد بھی کرسکتے ہیں۔