.

برطانیہ:اسلام مخالف ٹویٹس پر ٹوری امیدوار دستبردار

ڈیوڈ بشپ کی مسلمانوں سے معذرت اور پارٹی سیاست چھوڑنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کے ایک کونسل کی رکنیت کے لیے نامزد امیدوار نے ٹویٹر پر اسلام مخالف تحریریں پوسٹ کرنے پر معذرت کی ہے اور پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ڈیوڈ بشپ نے حال ہی میں ٹویٹر پر اسلام مخالف یک سطری بیانات جاری کیے تھے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا:''اسلام مخالف ہونا اچھی بات ہے''۔27 اپریل کو انھوں نے ٹویٹ کیا:''اسلام امن اور ''ریپ'' کا مذہب ہے''۔اس میں انھوں نے ایک چودہ سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے الزام میں چار مسلمانوں کی گرفتاری کی حوالہ دیا ہے۔

اس تحریر کو پوسٹ کرنے سے دوروز قبل ہی مسٹر بشپ کو کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے کونسل کی امیدواری کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ان صاحب نے اسلام مخالف تحریریں ہی ٹویٹ نہیں کی تھیں بلکہ ہم جنسی پرستی کے خلاف بھی کچھ کلمات ارشاد کیے تھے۔13 اپریل کو انھوں نے لکھا:''ایک گے لڑکا اپنا چہرہ کیسے سیدھا رکھ سکتا ہے''۔

بشپ ایسسکس کاؤنٹی میں واقع برینٹ ووڈ ساؤتھ میں ٹوری پارٹی کی جانب سے امیدوار تھے۔اب انھوں نے ایک معذرت نامہ جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ کوئی بھی 22 مئی کو مجھے ووٹ نہ ڈالے۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''میں غیر مشروط طور پر نامناسب ٹویٹس اور ری ٹویٹس پر معذرت خواہ ہوں اور اس جارحانہ حملے سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو مجھے اس پر افسوس ہے''۔

''میں یہ بات بخوبی سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی سرکاری عہدے کے لیے امیدوار ہے تو اس کو لیڈرشپ کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور مختلف طبقات کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ جوڑنا چاہیے۔مجھے امید ہے کہ برینٹ وڈ ساؤتھ کے مکین مجھے بروقت فیصلے میں غلطی پر معاف کردیں گے''۔انھوں نے مزید کہا ہے۔

مسٹر بشپ نے اپنے لکھے پر مزید پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ''میں نے خود کو اور اپنی جماعت کو نیچا دکھایا ہے اور میں نے مزید سُبکی سے بچنے کے لیے فوری طور پر کنزرویٹو پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔میں اب کسی سے نہیں کہوں گا کہ وہ 22 مئی کو مجھے ووٹ دے''۔انھوں نے مستقبل میں پارٹی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

قبل ازیں برینٹ وڈ میں کنزرویٹوز کے گروپ لیڈر لوئی میکنلے نے کہا تھا کہ بشپ کے خیالات کے لیے ہماری ٹیم میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ان کے سیاست سے دستبرداری کے اعلان سے دو روز قبل برطانیہ کی آزادی پارٹی کے کونسل امیدوار ہیری پیری کی بھی اسلام مخالف ٹویٹ پر پارٹی رکنیت معطل کردی گئی تھی۔

انھوں نے بھی مسٹر بشپ کی طرح ٹویٹر کو اسلام مخالف جذبات کے اظہار کے لیے استعمال کیا تھا۔انھوں نے اپنی ایک مختصر تحریر میں اسلام کو ایک برائی اور ہم جنس پرستی کو ایک لعنت قراردیا تھا۔