.

یمن میں القاعدہ کا اعلی عہدیدار فوجی کارروائی میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں القاعدہ کے خلاف جاری آپریشن کے دوران ہفتے کے روز ایک سینئر چیچن جنگجو ابو اسلام الشیشانی ہلاک ہو گیا۔ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے الشیشانی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ القاعدہ کے خلاف یمنی فوج کے آپریشن کے پہلے مرحلے پر ہی ہلاک ہو گیا۔

ہفتے ہی کے روز ایک کار میں سوار خودکش بمبار نے یمن کے جنوب مشرقی علاقے میں سیکیورٹی انٹلیجنس کی ایک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی پوسٹ کے داخلی دروازے پر زور دار دھماکے سے پھٹی۔ یہ پوسٹ حضر موت کے صوبائی صدر مقام میں واقع موکالہ رہائشی علاقے میں واقع تھی۔ اس حملے سے پوسٹ اور اردگرد واقع متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

یمنی فوجوں نے منگل کے روز جنوبی یمن کے 20000 مربع کلومیٹر (7700مربع میل) کے علاقے میں کارروائی شروع کی، جو نیو جرسی کی امریکی ریاست کے رقبے کے برابر کا علاقہ ہے۔ اس کارروائی میں فضائیہ کے جیٹ طیارے حصہ لے رہے ہیں، جب کہ حامی سینکڑوں ملیشیاؤں سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کارروائی میں شریک ہیں۔

جمعہ کے روز فوج نے پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کیا اور اُن کے قبضے سےتین موٹر گاڑیاں چھین لیں، جن میں سے ایک میں طیارہ شکن مشین گنیں لگی ہوئی تھیں، جنھیں جنوبی صوبہ شبواہ میں باغی استعمال کر رہے تھے۔

یہ بات وزارت دفاع نے اپنے ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک خبر میں بتائی ہے۔ ’چھبیس ستمبر‘ نامی اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی اِس خبر میں بتایا گیا ہے کہ فوج باغیوں کا پیچھا کر رہی ہے، جو پہاڑی علاقے کی طرف بھاگ نکلے ہیں۔

ابیان کے قریبی شہر میں فوج نے ٹینکوں اور راکٹوں کی مدد سے جنوبی صوبے میں اُن ٹھکانوں پر کارروائی کی ہے، جو شدت پسندوں کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ اس کارروائی میں فوج کو فضائیہ کی مدد حاصل ہے۔

بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران متعدد باغیوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم اعداد و شمار نہیں بتائے گئے۔

القاعدہ کی طرف سے فوج، حکومتی تنصیبات اور غیر ملکی شہریوں کے خلاف کیے جانے والے بم دھماکوں، خودکش حملوں اور کمانڈو اسٹائل کی چھاپہ مار کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران، القاعدہ کی طرف سے بیرون ملک حملوں کی کوششوں کے بعد جس میں امریکہ جانے والے ایک طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش بھی شامل ہے، یمن کا استحکام بین الاقوامی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، جس کی سرحدیں دنیا کے چوٹی کے تیل کے درآمد کنندہ ملک، سعودی عرب کے ساتھ ملتی ہیں۔