.

برطانوی تارکین کی یورپ اور امریکا پر یواے ای کو ترجیح

برطانوی شہری بہتر روزگار کی تلاش میں خلیجی ریاست کا رُخ کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی تارکین وطن بہتر روزگار کی تلاش اور سیروسیاحت کے لیے متحدہ عرب امارات کو یورپ اور امریکا پر ترجیح دے رہے ہیں اور ان کے اس رجحان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

اس بات کا انکشاف حال ہی میں برطانیہ کے نیٹ ویسٹ بنک کی منظرعام پر آنے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔''انٹرنیشنل پرسنل بنکنگ کوالٹی آف لائف''نامی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ''فرانس اور اسپین کے بعد متحدہ عرب امارات اب بیشتر برطانویوں کی جائے منزل ہوتا ہے اور وہ امریکا ،ہانگ کانگ اور جنوبی افریقہ پر اس کو ترجیح دے رہے ہیں''۔

بنک کی رپورٹ دوسرے ممالک میں مقیم برطانوی شہریوں کی آراء پر مبنی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ 75 فی صد رائے دہندگان کے بہ قول وہ روزگار کے بہتر مواقع کی بنا پر یو اے ای کا رُخ کرتے ہیں کیونکہ اس خلیجی ریاست کی معیشت مضبوط ہے۔

یو اے ای کے ایک مقامی روزنامے سات یوم کی رپورٹ کے مطابق 2012ء میں یو اے ای میں برطانوی تارکین وطن کی تعداد دو لاکھ چالیس ہزار تھی۔برطانوی تو بہتر معیار زندگی اور روزگار کی تلاش میں یو اے ای کا رُخ کررہے ہیں لیکن اماراتی شہریوں کے لیے برطانیہ اب محفوظ سیاحتی مقام نہیں رہا ہے۔

واضح رہے کہ العربیہ اور یوگورنمنٹ کے ایک مشترکہ سروے میں یواے ای کے باون فی صد شہریوں نے لندن میں حال ہی میں اماراتی سیاحوں پر دو سنگدلانہ حملوں کے بعد برطانیہ کو سیاحت کے لیے غیر محفوظ ملک قرار دیا تھا۔ان کے برطانیہ سے متعلق اس رویے میں تبدیلی ان دونوں حملوں کے بعد رونما ہوئی ہے حالانکہ متحدہ عرب امارات سے پچاس ہزار سے زیادہ شہری سالانہ سیروسیاحت کے لیے برطانیہ جاتے ہیں۔

العربیہ نیوز اور یو گورنمںٹ کے اس مشترکہ سروے میں 1154 افراد سے سوالات پوچھے گئے تھے۔اس سروے میں حصہ لینے والے ایک تہائی اماراتیوں کا کہنا تھا کہ وہ شاید اب سیروسیاحت کے لیے برطانیہ کا رُخ نہ کریں۔متحدہ عرب امارات میں مقیم 31 فی صد عرب تارکین وطن کا کہنا تھا کہ وہ بھی سیاحت کے لیے برطانیہ نہیں جائیں گے۔