.

شام لنک: ملائشیا میں 11 مشتبہ دہشت گردوں سے تحقیقات

گرفتار افراد پرملائشیا سے جنگجوؤں کو بھرتی کرکے شام بھیجنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا میں حکام گیارہ زیرحراست مشتبہ دہشت گردوں سے جنگجو بھرتی کرکے شام بھیجنے کے الزام میں تحقیقات کررہے ہیں۔

گرفتار کیے گئے ان مشتبہ افراد کی عمریں پچیس اور پچپن سال کے درمیان ہیں اور انھیں ملائشیا کے نئے سکیورٹی قانون کے تحت پکڑا گیا تھا۔اس قانون کے تحت پولیس مشتبہ افراد کو کسی فرد الزام کے بغیر اٹھائیس روز تک زیرحراست رکھنے کی مجاز ہے۔

اتوار کو ان مشتبہ افراد کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ ان سے ملائشیا کے لاپتا طیارے ایم ایچ 370 کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہے مگر سوموار کو ملائشین حکام نے بتایا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ان سے شام میں جاری خانہ جنگی میں حصہ لینے کے لیے گوریلا جنگجو بھیجنے کے الزام میں پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ القاعدہ سے وابستہ ان مشتبہ دہشت گردوں کو 8 مارچ کو لاپتا ہونے والے مسافر طیارے کے واقعہ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتارکیا گیا ہے لیکن پولیس حکام نے اس رپورٹ کی تردید کی تھی۔ملائشیا کے انسپکٹر جنرل پولیس تان سری خالد ابو بکر نے ایک بیان میں اس رپورٹ کو فضول قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ ان گرفتاریوں کا لاپتا طیارے کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ملائشیا کے وزیر داخلہ احمد زاہد حامدی نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ ''اگر ایسے عناصر کو آغاز ہی میں پکڑا نہیں جاتا ہے تو پھر وہ ملائشیا میں عدم استحکام کی سرگرمیوں میں ملوث ہوجائیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم یہ اقدام اس لیے کررہے ہیں کیونکہ ہم ملائشیا کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملائشیا کو جنوب مشرقی ایشیا یا پوری دنیا میں دہشت گردوں کو پھیلانے کے لیے ایک مرکز کے طور پر استعمال کیا جائے''۔