شامی اپوزیشن کے امریکی دفاتر کو "غیر ملکی مشن" کا درجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملکی قانون کے تحت شامی اپوزیشن کے دفاتر کو "غیر ملکی مشن" کا درجہ دینے کو تیار ہیں۔ امریکا نے بشار الاسد کے خلاف سرگرم شامی اپوزیشن کو 27 ملین ڈالرز مالیت کا "غیر مہلک" اسلحہ بھی دینے کا وعدہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی خاتون ترجمان ماری ہرف کے مطابق شامی اپوزیشن اتحاد کے دفاتر کو امریکی قانون کے تحت "غیر ملکی مشن" کا درجہ دیا جائے گا۔

ان کے بقول یہ اقدام واشنگٹن اور شامی اپوزیشن اتحاد کے درمیان تعلقات کو باقاعدہ شکل دینے کی ایک اور کوشش ہے۔ اب تک شامی اپوزیشن کی نیویارک اور واشنگٹن میں نمائندگی اتحاد کے رابطہ دفتر کرتے رہے ہیں۔

شامی نیشنل کونسل کے سربراہ احمد الجربا کے سرکاری دورہ امریکا سے پہلے رونما ہونے والی یہ تبدیلی علامتی نوعیت کی ہے، اس کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ امریکا نے شامی اپوزیشن کو بشار الاسد کی جگہ حکومت تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے۔

خاتون ترجمان نے واضح کیا کہ شامی اپوزیشن کے نمائندہ دفاتر کو امریکا میں "غیر ملکی مشن" کا درجہ دینے کا مطلب شامی اپوزیشن کونسکل کو حکومت تسلیم کرنا نہیں ہے۔ یہ شامی اتحاد کی عوام کے جائز نمائندہ فورم کے طور پر شراکت کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے شامی اپوزیشن کو امریکا میں بینکنگ اور سیکیورٹی خدمات کے حصول میں سہولت ملے۔ نیز انہیں امریکا میں مقیم شامیوں تک رسائی میں یہ امر سہولت فراہم کرے گا۔

شامی اپوزیشن کونسل کے سربراہ احمد الجربا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحاد کو امریکا کی جانب سے نیا درجہ دراصل بشار الاسد کے لیے کاری ضرب ہے۔

"یہ نئے شام کی جانب ایک اہم قدم ہے، یہ بین الاقوامی سطح پر ہماری حیثیت کو تسلیم کیا جانا ہے۔ یہ امریکا میں مقیم شامیوں کے سے اتحاد کے رابطوں کی ضرورت کا اعتراف ہے۔ اتحاد کو ملنے والے نیا درجے نے شامی اتحاد کو سفارتی پلیٹ فارم مہیا کیا ہے تاکہ وہ ہر سطح پر شامی عوام کے مفادات کو آگے بڑھا سکے۔

یاد رہے امریکی دفتر خارجہ نے مارچ سے واشنگٹن میں شامی سفارتخانے اور قونصل خانون کی سرگرمیاں معطل کر رکھی ہیں۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی جانب سے امن معاہدہ میں ناکامی کے بعد اٹھایا گیا۔

ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان یوکرین کے تنازع کی وجہ سے شام میں جنگ ختم کرانے کے لیے امریکا اور روس کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

ماری ہرف نے بتایا باراک اوباما انتظامیہ امریکی کانگریس کے ساتھ ملکر اعتدال پسند شامی اپوزیشن کے لئے 27 ملین ڈالر غیر مہلک امداد میں کا اضافہ چاہتی ہے، جس کے بعد اس مد میں امریکی معاونت 287 ملین ڈالر ہو جائے گی۔ غیر مہلک امداد میں طبی امداد، خوراک، مواصلاتی آلات اور گاڑیاں شامل ہیں۔

یہ امداد باغیوں کی جانب سے ٹینک اور طیارہ شکن جدید میزائل کی فراہمی سے کم درجے کی ہے کیونکہ باغی سمجھتے ہیں کہ بشار الاسد کی فوج اور اسے ملنے والے روسی اسلحے کا مقابلہ کرنے کے لیے ان ہتھیاروں کی فراہمی ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں