سعودی عرب: بڑے دہشت گرد گروپ کا خاتمہ ،بم فیکٹری تباہ

ایک پاکستانی ،فلسطینی اور یمنی سمیت گروپ کے 62 مشتبہ ارکان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے شام اور یمن کے انتہا پسند عناصر سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی دہشت گرد تنظیم کو ختم کرنے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ یہ تنظیم سرکاری تنصیبات اور غیرملکی مفادات پر حملوں کی سازش کررہی تھی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق اس گروپ کے باسٹھ مشتبہ ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں ایک پاکستانی ،ایک فلسطینی اور ایک یمنی ہے۔گرفتار کیے گئے سعودیوں میں سے پینتیس کو پہلے بھی مختلف الزامات کے تحت پکڑا گیا تھا لیکن بعد میں انھیں رہا کردیا گیا تھا۔

وزرت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے الریاض میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس تنظیم نے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے براہ راست روابط استوار کررکھے تھے۔اس سے وابستہ مزید چوالیس افراد کی تلاش کی جارہی ہے اور ان کے نام بین الاقوامی پولیس ایجنسی (انٹرپول) کو دے دیے گئے ہیں۔

اس گروپ نے سعودی عرب میں سرکاری اور غیرملکی مفادات کو نشانہ بنایا تھا اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا لیکن سوشل نیٹ ورکس پر مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی کر کے اس سے وابستہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

میجر جنرل منصورالترکی نے مزید بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دھماکا خیز مواد کی تیاری میں استعمال ہونے والی ایک فیکٹری کو بھی تباہ کردیا ہے اور ان سے قریباً دس لاکھ سعودی ریال کی رقم قبضے میں لے لی گئی ہے۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے مارچ میں سعودی مملکت کی جانب سے دہشت گرد قراردیے گئے گروپوں کی ایک فہرست شائع کی تھی۔اس میں مصر کی اخوان المسلمون ،شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ اور شام اور عراق میں برسرپیکار ایک اور جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام کے نام شامل تھے۔اس میں سعودی عرب میں کام کرنے والا ایک غیر معروف شیعہ گروپ حزب اللہ اور یمن میں حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے حوثی باغیوں کے نام بھی شامل تھے۔

وزارت داخلہ نے تب کہا تھا کہ ان گروپوں کی مالی اور اخلاقی حمایت یا سوشل نیٹ ورکس اور میڈیا پر ان کی تشہیر کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔بیان میں شورش زدہ دوسرے ممالک میں لڑائی میں حصہ لینے یا اس پر آمادہ کرنے کی ممانعت کردی گئی تھی۔اس کے علاوہ مظاہروں کی اپیل یا ان میں حصہ لینے پر بھی پابندی عاید کردی گئی تھی۔

سعودی عرب میں 2003ء سے 2006ء تک القاعدہ سے وابستہ گروپ کے ارکان نے تباہ کن بم دھماکے کیے تھے اور غیر ملکیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا تھا۔سعودی سکیورٹی فورسز نے اس گروپ کے خلاف کارروائِی کرکے اس سے وابستہ ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا تھا اور بہت سے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مارے گئے تھے۔

تاہم اس گروپ کے بہت سے ارکان بھاگ کر پڑوسی ملک یمن میں چلے گئے تھے جہاں انھوں نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کر لی تھی۔اس میں سعودی عرب اور یمن کے علاوہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو شامل ہیں اور امریکا اس کو القاعدہ کی سب سے خطرناک تنظیم قرار دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں