.

جنوبی سوڈان: متحارب کمانڈروں کو امریکی پابندیوں کا سامنا

جو بھی تشدد کرے گا اسے جوابدہ ہونا پڑے گا: ساماناتھ پاور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے جنوبی سوڈان کے دو متحارب کمانڈروں پر نسل پرستانہ تشدد میں ملوث ہونے کی بنیاد پر پابندیاں عاید کر دی ہیں۔ امریکا کی طرف سے ان پابندیوں پر دستخط کیے جانے سے افریقی ملک کے رہنماوں کے بارے میں غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ہے۔

جنوبی سوڈان میں تشدد کی حالیہ لہر پچھلے سال دسمبر میں صدر سلواکیر کی وفادار افواج اور سابق نائب صدر رائیک ماشر کے حامی باغیوں کے درمیان شروع ہوئی تھی۔ اس عرصے میں ہزاروں افراد تشدد کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور تقریبا دس لاکھ افراد کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔

امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں صدارتی گارڈز کے سربراہ میجر جنرل ماریل چاونگ اور سابق نائب صدر کے حامی فوج کمانڈر پیٹر گیڈٹ شامل ہیں۔ اس بارے میں امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رپورٹرز سے کہا '' ہم محض دو افراد اور کمپنیوں کے خلاف پابندیاں محدود پیمانے پر بروئے کار لا رہے ہیں، صرف انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ '' واضح رہے ''میجر جنرل ماریل نے پچھلے سال دسمبر میں اپنی زیرکمان افواج کے ذریعے سینکڑوں افراد کی جان لی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق'' باغی کمانڈر پیٹر گیڈز نے بینتیو نامی قصبے میں اپریل کے دوران کم از کم 200 شہریوں کا خون کیا تھا۔'' امریکی حکام کا مزید کہنا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ آج کا اقدام با معنی رہے گا نیز ان لوگوں کیلیے ایک اشارہ بھی ہو گا جو آئندہ قتل و غارتگری میں دلچسپی رکھتے ہوں گے۔

واضح رہے امریکا نے پیر کے روز اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ جنوبی سوڈان کے افراد پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے دونوں طرف کے کمانڈروں کے خلاف لگائی پابندیاں پہلا قدم ہیں۔ اقوام متحدہ کیلیے امریکی سفیر ساماناتھ پاور نے اس بارے میں کہا ہے کہ '' امریکا ہر اس شخص کو کٹہرے میں لائے گا جو تشدد کا راستہ اختیار کرے گا۔ ''